World
غزہ کی صورتحال: جنگ بندی کے بعد بھی حملے جاری، انسانی بحران سنگین
اسلامی ریلیف کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں کی وجہ سے صورتحال بدتر ہو چکی ہے۔ عالمی برادری کو اس انسانی المیے پر فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
بین الاقوامی فلاحی ادارے 'اسلامی ریلیف' نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے اعلانات کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں ہر نوے منٹ میں ایک فلسطینی یا تو شہید ہو جاتا ہے یا شدید زخمی ہوتا ہے۔ تنظیم نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ محصور علاقے میں انسانی حالات روز بروز بدتر ہوتے جا رہے ہیں اور عام شہریوں کی زندگیاں سخت خطرے میں ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اور ادویات کی شدید قلت کی وجہ سے صورتحال ایک بڑے انسانی المیے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جاری کشیدگی اور حملوں کے باعث غزہ کے مکینوں کے لیے دو وقت کی روٹی اور طبی امداد کا حصول بھی ناممکن بنتا جا رہا ہے۔ اسپتالوں اور طبی مراکز پر دباؤ انتہا کو پہنچ چکا ہے جہاں ڈاکٹرز کو وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔ اسلامی ریلیف نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ زبانی جمع خرچ سے ہٹ کر عملی اقدامات اٹھانے کا وقت آ گیا ہے تاکہ غزہ کے مظلوم عوام کو خوراک، پانی اور علاج معالجے کی فوری فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔