LIVE
Loading Breaking News...

بیرسٹر گوہر کا انسداد دہشت گردی پالیسی کا جائزہ لینے کا مطالبہ

News Image
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر نے ملک میں انسداد دہشت گردی کی پالیسی پر فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے صوبے میں گورنر کے مواخذے کے لیے قانون سازی کا عندیہ دیا ہے۔
اسلام آباد اور پشاور کے سیاسی حلقوں میں ہلچل اس وقت مزید تیز ہو گئی جب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور ممتاز قانون دان بیرسٹر گوہر خان نے ملک بھر میں جاری انسداد دہشت گردی کی پالیسی کا از سر نو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ سراتی اور سیکورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے روایتی طریقوں کے بجائے جامع اور متوازن حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کے بنیادی حقوق اور تحفظ دونوں کو یقینی بنایا جا سکے۔ بیرسٹر گوہر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سکیورٹی کے امور پر وفاق اور صوبائی سطح پر بحث جاری ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے سیاسی منظر نامے پر بھی گہرے بادل منڈلا رہے ہیں جہاں صوبائی حکومت اور گورنر ہاؤس کے درمیان تناؤ میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور اور دیگر صوبائی رہنماؤں کی جانب سے صوبے میں سکیورٹی آپریشنز کی مخالفت کی گئی ہے اور ایک نیا قانون لانے پر غور کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے گورنر کے مواخذے کا راستہ صاف کیا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے گورنر کی جانب سے بلائے جانے والے سکیورٹی اجلاسوں کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ صوبے کے اختیارات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ سیاسی ماہرین کے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت اور صوبائی حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے یہ اقدامات آنے والے دنوں میں وفاقی حکومت کے ساتھ تعلقات کو مزید کشیدہ کر سکتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ملک کو اس وقت معاشی اور سکیورٹی کے محاذ پر جن سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، اس کے پیش نظر تمام سیاسی قوتوں کو محاذ آرائی کی بجائے مذاکرات اور آئینی دائرے میں رہ کر حل تلاش کرنے چاہئیں تاکہ جمہوریت اور استحکام کو نقصان نہ پہنچے۔