LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم، ٹرمپ کا ایران پر حملے سے گریز اور چین کی برآمدات بحال

News Image
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مڈٹرم انتخابات سے قبل ایران پر حملے کے امکانات مسترد کرنے اور چین کی طرف سے ایندھن کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت سے عالمی سطح پر توانائی کے بحران کے خدشات میں کمی واقع ہوئی ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں آج اس وقت نمایاں کمی دیکھنے میں آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مڈٹرم انتخابات سے قبل ایران پر کسی بھی ممکنہ حملے کو عارضی طور پر موخر یا مسترد کرنے کے بیانات سامنے آئے۔ اس جغرافیائی سیاسی پیش رفت نے سرمایہ کاروں کو بڑی حد تک پرسکون کر دیا ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی جنگ یا بڑے فوجی تنازعے کے خدشات کم ہو گئے ہیں جو کہ تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی حساس سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، توانائی کی منڈی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی ایک اور خبر یہ بھی ہے کہ چین نے اپنے یہاں ایندھن کی برآمدات کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے، جس سے ایشیا اور دنیا بھر میں رسد کی صورتحال مزید بہتر ہوئی ہے۔ دوسری جانب تہران کی طرف سے بھی امریکی ردعمل کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے اور سفارتی سطح پر صورتحال کو سمجھنے کی کوششیں جاری ہیں، تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم رکھا جا سکے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ عارضی طور پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان پایا جا رہا ہے، تاہم مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال اور عالمی معیشت میں طلب و رسد کا توازن آئندہ دنوں میں بھی قیمتوں کے تعین میں بنیادی کردار ادا کرتا رہے گا۔ کاروباری حلقوں اور سرمایہ کاروں کی نظریں اب مسلسل واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے ممکنہ رابطوں اور بیانات پر مرکوز ہیں تاکہ آئندہ کے تجارتی رجحانات کا اندازہ لگایا جا سکے۔