LIVE
Loading Breaking News...

افغانستان میں دہشت گرد تنظیمیں اور اقوام متحدہ، تازہ ترین خبریں

News Image
اقوام متحدہ کے سربراہ کو بتایا گیا ہے کہ اس وقت افغانستان سے پچیس دہشت گرد تنظیمیں سرگرمِ عمل ہیں۔ دورے کے آخری روز پاکستانی حکام نے عالمی رہنما کے سامنے علاقائی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے امور پر تفصیل سے بات کی۔
اقوام متحدہ کے سربراہ کے دورہ پاکستان کے دوران اہم سکیورٹی امور اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو بریفنگ دی گئی ہے کہ اس وقت افغانستان کی سرزمین سے تقریبا پچیس مختلف دہشت گرد تنظیمیں سرگرم عمل ہیں، جو خطے کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ پاکستانی قیادت نے اس موقع پر دوٹوک مؤقف اپنایا کہ ملک دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور فیصلہ کن عالمی جنگ لڑ رہا ہے، جس میں سکیورٹی فورسز نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ دورے کے آخری روز ہونے والی ملاقاتوں میں پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے اقوام متحدہ کے سربراہ کو زمینی حقائق سے آگاہ کیا۔ چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کے دوران اقوام متحدہ کے سربراہ نے خطے میں امن کے قیام اور علاقائی تنازعات کے حل کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کی بھرپور تحسین کی۔ ملاقات میں کشمیر کے دیرینہ تنازع اور پانی کے منصفانہ تقسیم کے مسائل بھی سرفہرست رہے، جن پر عالمی سطح پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اسلام آباد میں ہونے والے ان اہم مذاکرات میں پاک بھارت تعلقات، کشمیر اور خطے کے مجموعی امن و استحکام کے علاوہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے تمام فریقین پر زور دیا کہ خطے میں بڑی تباہی سے بچنے کے لیے کشیدگی میں کمی لائی جائے اور تنازعات کا پرامن حل نکالا جائے۔ انہوں نے علاقائی امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کا اعتراف کیا۔