World
روسی صدر پیوٹن کی ایرانی صدر پزشکیان سے ملاقات اور جنگ کے خاتمے پر گفتگو
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ترکمانستان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے دوران مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ترکمانستان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ روس خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ اہم ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عالمی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدہ تعلقات اور ممکنہ مذاکرات کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ روسی میڈیا رپورٹس کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں ایرانی صدر نے امریکی نو منتخب صدر یا انتظامیہ کے لیے کوئی خاص پیغام نہیں بھیجا تھا، تاہم خطی صورتحال پر انتہائی سنجیدہ نوعیت کی بات چیت ضرور ہوئی۔ دوسری جانب امریکی ذرائع ابلاغ کی جانب سے بھی تہران کے ساتھ حالیہ دنوں میں پیداواری اور تعمیری نوعیت کی بات چیت کے اشارے دیے گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ترکمانستان میں ہونے والی اس ملاقات کی بین الاقوامی سیاست میں بڑی اہمیت ہے کیونکہ ماسکو اور تہران دونوں ہی مغربی ممالک کی سخت پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں اور اپنے باہمی اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے درپے ہیں۔ روسی صدر کا یہ بیان کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے مکمل تعاون کریں گے، ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امن قائم کرنے کے لیے عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز ہو چکی ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی روسی صدر کے ساتھ ہونے والی اس ملاقات کو انتہائی سودمند قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک کے مابین معاشی اور سیاسی شعبوں میں تعاون کا دائرہ مزید وسیع ہوگا۔ ملاقات کے دوران دوطرفہ تجارت، توانائی کے منصوبوں اور علاقائی سلامتی کے امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان قریبی دوستانہ تعلقات کا ایک بار پھر اعادہ ہوا۔