LIVE
Loading Breaking News...

سونے کی قیمتوں میں اضافہ، چین کی ممکنہ طلب کا اثر

News Image
بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں دو ماہ کی کم ترین سطح سے بحالی کے بعد ایک فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجوہات میں چینی مارکیٹ سے طلب میں اضافے کے امکانات اور ڈالر کی قدر میں گراوٹ شامل ہیں۔
بین الاقوامی کموڈیٹی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں گزشتہ روز کے مقابلے میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے اور زرد دھات کی قیمت ایک فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ فروخت ہو رہی ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران سونے کی قیمتوں میں مسلسل کمی کا رجحان پایا جا رہا تھا اور یہ دو ماہ کی کم ترین سطح تک گر چکی تھیں، تاہم اب مارکیٹ نے ایک نئی سمت پکڑ لی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اس حالیہ بحالی کی بڑی وجہ چین کی جانب سے سونے کی ممکنہ طلب میں اضافہ ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو دوبارہ اس مارکیٹ کا رخ کرنے پر مجبور کیا ہے۔اس کے علاوہ، امریکی ڈالر کی قیمتوں میں سست روی اور ٹریژری ییلڈز میں کمی نے بھی سونے کی قیمتوں کو سہارا فراہم کیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں سرمایہ کار اب امریکی افراط زر کے اعداد و شمار اور فیڈرل ریزرو کے آئندہ مانیٹری پالیسی کے فیصلوں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ امریکی صارفین کی قیمتوں کے اشاریے (سی پی آئی) کے اجرا سے قبل مارکیٹ میں پوزیشننگ کا عمل جاری ہے، جس کے باعث سونے کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگر ڈالر کی کمزوری کا سلسلہ برقرار رہتا ہے اور چینی مارکیٹ سے خریداروں کی دلچسپی مزید بڑھتی ہے تو سونے کی قیمتیں مستقبل قریب میں مزید اوپر جا سکتی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں گولڈ ٹریڈرز انتہائی محتاط انداز میں فیصلے کر رہے ہیں کیونکہ عالمی اقتصادی اشاریے اور مرکزی بینکوں کی پالیسیاں اس وقت سونے کی مارکیٹ کی سمت متعین کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ مارکیٹ کے شرکاء کا یہ بھی ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں جیو پولیٹیکل صورتحال اور اقتصادی اعداد و شمار سونے کی قیمتوں کے اگلے ہدف کا تعین کریں گے۔