LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں سوشل میڈیا تخلیق کاروں پر نئے ٹیکسز کا نفاذ

News Image
مختصر المعاش معیشت کے شکار پاکستان نے سوشل میڈیا کے مواد تخلیق کاروں پر پانچ فیصد ٹیکس عائد کر دیا ہے۔ اس نئے اقدام کا مقصد ملک کے اندر اور بیرون ملک مقیم آن لائن ارنرز سے ریونیو اکٹھا کرنا ہے۔
مشرقی اور وسطی ایشیا کی معاشی مشکلات میں گِھرے ہوئے ملک پاکستان نے ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے ساتھ ہی اب آن لائن آمدنی پر نظریں ثانی کرنا شروع کر دی ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، حکومت نے پاکستان بھر کے تمام سوشل میڈیا مواد تخلیق کاروں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے وابستہ افراد پر پانچ فیصد ٹیکس نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نئے ٹیکس کے دائرہ کار میں وہ تمام افراد شامل ہیں جو یوٹیوب، فیس بک، ٹک ٹاک اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی ویڈیوز اور مواد سے آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کی جانب سے اٹھائے گئے اس قدم کا مقصد ملک کے ٹیکس نیٹ ورک کو وسیع کرنا اور ڈیجیٹل سیکٹر سے ریونیو حاصل کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ ٹیکس نہ صرف مقامی سطح پر کام کرنے والے تخلیق کاروں پر لاگو ہوگا بلکہ ان پاکستانیوں کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑے گا جو بیرون ملک مقیم ناظرین یا پلیٹ فارمز سے غیر ملکی زر مبادلہ کما رہے ہیں۔ اس پالیسی سے آن لائن ارنرز کے لیے ایک نیا مالیاتی ضابطہ کار وضع ہو رہا ہے، جس سے ڈیجیٹل انڈسٹری میں ہلچل مچ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب روایتی معیشت دباؤ کا شکار ہے، حکومت ڈیجیٹل میڈیا اور انٹرنیٹ پر مبنی روزگار کے ذرائع کو محصولات کا ایک مستحکم ذریعہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم، دوسری جانب کریئیٹرز کمیونٹی کا ماننا ہے کہ اس قسم کے نئے ٹیکسز ابتدائی سطح کے ڈیجیٹل انٹرپرینیورز اور نوجوان تخلیق کاروں کی حوصلہ شکنی کر سکتے ہیں، جو پہلے ہی انٹرنیٹ کی سست رفتار اور بجلی کے بحران جیسی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ایف بی آر کی جانب سے اس ٹیکس کی وصولی کے طریقہ کار اور باضابطہ ہدایات کو مزید واضح کیا جائے گا۔ تمام متعلقہ اداروں اور آن لائن ارنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس نئے قانون سے باخبر رہیں تاکہ وہ اپنی مالیاتی امور کو قانونی تقاضوں کے مطابق ڈھال سکیں۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام معیشت کو دستاویزی شکل دینے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔