World
گرین پارٹی رہنما زیک پولانسکی پر تنقید اور صیہونزم تنازعہ
برطانوی گرین پارٹی کے سینئر رہنما زیک پولانسکی کو اراکین کی جانب سے صیہونزم کو نسل پرستی کی ایک شکل قرار دینے والی قرارداد پر ان کے ردعمل کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اس صورتحال نے پارٹی کے اندرونی حلقوں میں اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔
برطانوی سیاست میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب گرین پارٹی کے رہنما زیک پولانسکی کو پارٹی اراکین کی جانب سے پاس کی جانے والی ایک متنازعہ قرارداد پر ان کے ردعمل کے باعث کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ نامہ نگار کرس میسن کے مطابق اس صورتحال نے پارٹی کے اندرونی نظم و ضبط اور سیاسی سمت پر کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ سارا تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب گرین پارٹی کے اراکین نے ایک قرارداد منظور کی جس میں صیہونزم کو نسل پرستی کی ایک شکل قرار دیا گیا۔ اس قرارداد کے منظور ہونے کے بعد پارٹی کی قیادت خصوصاً زیک پولانسکی پر دباؤ بڑھ گیا کہ وہ اس معاملے پر اپنا واضح مؤقف پیش کریں۔ تاہم، قیادت کی طرف سے آنے والے ردعمل کو پارٹی کے کئی سینئر رہنماؤں نے ناکافی اور مبہم قرار دیا ہے۔ سینئر پارٹی شخصیات کا ماننا ہے کہ ایسے حساس اور اہم موضوعات پر پارٹی کے سربراہ کو دوٹوک اور واضح مؤقف اپنانا چاہیے تھا تاکہ کسی بھی قسم کے غلط تاثر یا ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے۔ اس تنازعے نے نہ صرف پارٹی کے اندرونی دھڑوں کو متحرک کر دیا ہے بلکہ برطانوی سیاسی منظر نامے پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں زیک پولانسکی کے لیے پارٹی کے اندر ہم آہنگی برقرار رکھنا اور اس بحران سے نمٹنا ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔ سیاسی مبصرین اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ گرین پارٹی کے اندر اس قسم کے نظریاتی اختلافات پہلے بھی بحث کا موضوع بنتے رہے ہیں۔ پارٹی قیادت کو اب اس تنقید کا سامنا کرنے کے لیے کوئی جامع حکمت عملی بنانا ہوگی تاکہ اراکین کے ساتھ اعتماد کے رشتے کو بحال کیا جا سکے اور پارٹی کی مجموعی ساکھ کو محفوظ رکھا جا سکے۔