LIVE
Loading Breaking News...

روس کے حملے اور سردی: کیف کے شہریوں کی نقل مکانی

News Image
روس کی جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور شدید سردی کے آغاز کے بعد کیف کے رہائشیوں نے شہر چھوڑنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ یوکرین کے دارالحکومت میں زندگی انتہائی مشکل ہو چکی ہے جس کی وجہ سے لوگ محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔
یوکرین کے دارالحکومت کیف میں روسی افواج کی جانب سے توانائی اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر کیے جانے والے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شہر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ روس کی جانب سے مسلسل بمباری کے نتیجے میں یوکرین کا بجلی کا نظام اور گیس کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے، جس سے آنے والے سرد ترین مہینوں میں حالات مزید ابتر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس صورتحال نے کیف کے عام شہریوں کو گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور وہ اپنی اور اپنے بچوں کی سلامتی کے لیے محفوظ مقامات کا رخ کر رہے ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق، مسلسل حملوں کی وجہ سے شہر میں ہیٹنگ اور بجلی کے نظام کی بحالی انتہائی کٹھن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ درجہ حرارت میں نمایاں کمی اور ایندھن کی قلت کے باعث رہائشیوں کے لیے گھروں کو گرم رکھنا تقریباً ناممکن ہوتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کے پاس ہجرت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حملوں کا یہ سلسلہ رکا نہیں تو کیف میں انسانی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے، کیونکہ سردی کی شدت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ دریں اثنا، یوکرین کی حکومت اور بین الاقوامی امدادی ادارے متاثرہ شہریوں کی بحالی اور انہیں عارضی پناہ گاہیں فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں، تاہم تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شہریوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور وہ سرد موسم کے اثرات سے بچنے کے لیے ہمسایہ ممالک یا نسبتاً محفوظ دیہی علاقوں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔