LIVE
Loading Breaking News...

گرین پارٹی کے رہنما پولانسکی کو سیاسی بحران کا سامنا

News Image
گرین پارٹی کے رہنما کو صیاحت کو نسل پرستی قرار دینے والی پارٹی قرارداد پر ردعمل اور ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد دباؤ کا سامنا ہے۔ اس صورتحال کو ان کی سیاسی قیادت کے لیے اب تک کا سب سے بڑا بحران قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانوی گرین پارٹی کے رہنما کو اپنی سیاسی زندگی کے مشکل ترین دور کا سامنا ہے، جہاں انہیں ایک ہی وقت میں اندرونی اور بیرونی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ ان کی جماعت کی صدارت اور قیادت کے دوران اب تک کا سب سے سنگین بحران بن چکا ہے جس نے پارٹی کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں پارٹی کے اندر ایک متنازعہ قرارداد پیش کی گئی جس میں صیاحت کو نسل پرستی کی ایک شکل قرار دیا گیا۔ اس قرارداد کے حوالے سے رہنما کا جوابی ردعمل اور موقف عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس حساس مسئلے پر پارٹی کی طرف سے واضح اور دوٹوک لائحہ عمل اپنانے میں ناکامی نے جماعت کے اندرونی تضادات کو کھل کر سامنے لے آیا ہے۔ اس نظریاتی اور سیاسی دباؤ کے علاوہ، گرین پارٹی کو حالیہ ضمنی انتخابات میں بھی عبرت ناک شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ انتخابی دنگل میں ہار اور سیاسی حمایت میں کمی نے پارٹی قیادت کی کارکردگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، جس کے بعد پارٹی کے اندر ہی سے قیادت کی تبدیلی اور پالیسیوں پر نظرثانی کے مطالبات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ پولانسکی کے لیے اس بحران سے نکلنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ انہیں ایک طرف تو پارٹی کے اندرونی دھڑوں کو سنبھالنا ہے اور دوسری طرف عام انتخابات سے قبل ووٹرز کا اعتماد دوبارہ بحال کرنا ہے۔ آنے والے دنوں میں گرین پارٹی کا لائحہ عمل برطانوی سیاست میں اس جماعت کی سمت کا تعین کرے گا۔