LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کا خطرہ: میریڈیھ وائٹ ٹیکر کا انمٹ انٹرویو

News Image
ٹیکنالوجی کی معروف ماہر میریڈیھ وائٹ ٹیکر کا کہنا ہے کہ اے آئی کے حوالے سے معاشرے میں غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اور اصل خطرہ اس کے غلط اور لاپرواہ استعمال میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کو لے کر بنائی جانے والی فرضی کہانیاں اصل مسائل سے توجہ ہٹا رہی ہیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی جانی پہچانی شخصیت میریڈیھ وائٹ ٹیکر نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے حوالے سے پھیلائی جانے والی خوفناک کہانیاں اور مفروضے اصل حقائق سے توجہ ہٹانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ بی بی سی گلوبل ویمن کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کو کوئی جادوئی یا غیر فانی طاقت سمجھنے کے بجائے اس کے حقیقی اثرات اور استعمال پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل خطرہ اس ٹیکنالوجی کے خود مختار ہونے کا نہیں بلکہ اس کے انسانوں کی جانب سے لاپرواہ، غیر ذمہ دارانہ اور تجارتی مقاصد کے تحت کیے جانے والے استعمال میں ہے۔ آج کل مصنوعی ذہانت کے ارد گرد جو خوف کا ماحول بنایا جا رہا ہے، وہ اکثر کمپنیاں اپنی مصنوعات کو زیادہ خطرناک اور طاقتور دکھانے کے لیے خود فروغ دیتی ہیں۔ اس سے ایک ایسا تاثر ملتا ہے گویا اے آئی خود بخود دنیا پر قبضہ کر لے گی، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اصل مسئلے انسانی نگرانی کی کمی، ڈیٹا کا غیر قانونی استعمال اور طاقتور کارپوریشنز کی اجارہ داری ہیں جو اس ٹیکنالوجی کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے کو سائنس فكشن فلموں جیسے خیالات سے باہر نکل کر عملی زمینی حقائق کا سامنا کرنا ہوگا۔ ہمیں ان پالیسیوں اور ضوابط پر کام کرنا چاہیے جو اے آئی کے روزمرہ کے استعمال کو شفاف اور عوام دوست بنائیں۔ شفافیت کے بغیر ٹیکنالوجی کا یہ سفر انسانیت کے لیے مفید ثابت ہونے کے بجائے زحمت بن سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر وقت رہتے اس ٹیکنالوجی کی نگرانی کے لیے مؤثر قوانین نہ بنائے گئے تو معاشرتی ناہمواریوں میں مزید اضافہ ہو گا، اور یہی وہ اصل خطرہ ہے جس سے نمٹنے کی آج سب سے زیادہ ضرورت ہے۔