World
مراکشی فٹ بالر کی سیوٹھا جاتے ہوئے ہلاکت، تدفین میں سینکڑوں افراد کی شرکت
مراکشی فٹ بالر فاتن بن عمر العزیزی کو اسپین کے علاقے سیوٹھا پہنچنے کی کوشش میں سمندر میں جاں بحق ہونے کے بعد سپ خاک کر دیا گیا۔ ان کی نماز جنازہ اور تدفین میں ان کے لواحقین اور سینکڑوں مقامی افراد نے گہرے دکھ اور رنج کے ساتھ شرکت کی۔
مراکشی فٹ بالر فاتن بن عمر العزیزی کو سپین کے خود مختار انکلیو سیوٹھا پہنچنے کی کوشش کے دوران پیش آنے والے ایک المناک واقعے میں جاں بحق ہونے کے بعد سپ خاک کر دیا گیا ہے۔ ان کی تدفین کی تقریب میں ان کے اہلِ خانہ، دوستوں اور فٹ بال کے کھیل سے وابستہ ساتھیوں کے علاوہ سینکڑوں مقامی شہریوں نے شرکت کی، جہاں ماحول انتہائی سوگوار تھا۔
فاتن بن عمر العزیزی کی اچانک اور دردناک موت نے پورے علاقے کو سوگ میں ڈبو دیا ہے۔ وہ بہتر مستقبل اور اپنے کھیل کے کیریئر کو آگے بڑھانے کی امید میں سیوٹھا کی طرف جانے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم اس خطرناک سفر کے دوران پیش آنے والے حادثے نے ان کی زندگی کا چراغ گل کر دیا۔ ان کے چاہنے والوں نے ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر تارکین وطن کو درپیش خطرات اور بحیرہ روم کے راستے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش میں ہونے والے جانی نقصان کے اہم مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔ نوجوان کھلاڑی کی المناک موت پر مراکش اور بین الاقوامی سطح پر کھیلوں کے حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے غیر قانونی اور خطرناک ہجرت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش ظاہر کی ہے۔