World
جنوبی افریقہ میں مہاجرین کے خلاف تشدد، دکانیں لوٹ لی گئیں
جنوبی افریقہ میں مہاجرین کے خلاف شروع ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کے دوران دکانیں لوٹ لی گئی ہیں اور متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ ملک میں غیر ملکی تارکین وطن کے خلاف ہونے والے ان پرتشدد واقعات نے سکیورٹی کے حوالے سے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔
جنوبی افریقہ میں غیر ملکی تارکین وطن کے خلاف پُرتشدد مظاہروں اور واقعات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں دکانوں کو لوٹ لیا گیا اور متعدد گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔ مقامی میڈیا اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ تازہ ترین کشیدگی اس وقت پھوٹی جب اچانک مہاجرین کو نشانہ بنانے والے گروہوں نے سڑکوں پر آ کر ہنگامہ آرائی شروع کر دی۔ ان پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے مقامی کاروبار کو شدید نقصان پہنچا ہے اور عوام میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی ہے۔
واضح رہے کہ جنوبی افریقہ میں اس طرح کے پُرتشدد واقعات پہلے بھی وقتاً فوقتاً رونما ہوتے رہے ہیں، جن میں اکثر پڑوسی ممالک سے آئے ہوئے غریب مہاجرین کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مقامی آبادی کا ایک طبقہ روزگار کی قلت اور معاشی مسائل کا ذمہ دار غیر ملکی تارکین وطن کو ٹھہراتا ہے، جس کی وجہ سے دونوں فریقین کے درمیان تناؤ اکثر بڑھ جاتا ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس قسم کے نسلی و علاقائی تعصبات پر قابو پانے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی کا فقدان ان مسائل کو بار بار ابھارنے کا سبب بن رہا ہے۔
حالیہ پرتشدد واقعات کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ مزید نقصانات کو روکا جا سکے اور امن و امان کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بلوہ کرنے والے اور دکانوں میں لوٹ مار میں ملوث افراد کی شناخت کی جا رہی ہے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مہاجرین کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے اور معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کو ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے۔