World
اسرائیل میں طویل جنگ کے نفسیاتی اثرات اور بچوں کی حالت
ایک نئے مطالعے کے مطابق اسرائیل میں بچوں کی نفسیاتی ہنگامی دوروں میں دو گنا سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ طویل جاری رہنے والی جنگ نے اسرائیلی معاشرے اور خاص طور پر کم عمر طبقے کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔
سات اکتوبر کے واقعات اور اس کے بعد شروع ہونے والی طویل اور لامتناہی جنگ نے جہاں خطے کے دیگر حصوں میں تباہی پھیلائی ہے، وہیں خود اسرائیلی معاشرے اور اس کے شہریوں بالخصوص بچوں کی نفسیاتی صحت پر بھی تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔ حالیہ طبی اور نفسیاتی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس طویل تنازعے کے نتیجے میں اسرائیل کے اندر بچوں کے لیے نفسیاتی ہنگامی دوروں (Psychiatric Emergency Visits) میں دو گنا سے زائد کا ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو کہ ایک انتہائی تشویشناک صورتحال کی غمازی کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے سائے میں پروان چڑھنے والے بچوں کی ذہنی کیفیت انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور انہیں شدید نوعیت کے خوف، ڈپریشن اور اضطراب کا سامنا ہے۔ یہ طویل جنگی حالات نہ صرف روزمرہ زندگی کو مفلوج کر رہے ہیں بلکہ کم عمر بچوں کے لاشعور پر گہرے زخم چھوڑ رہے ہیں جن کے اثرات آنے والے کئی سالوں تک باقی رہنے کا اندیشہ ہے۔ ماہرینِ نفسیات کا مزید کہنا ہے کہ اسکولوں کے بند ہونے، سائرن کی مسلسل آوازوں اور محفوظ پناہ گاہوں میں نقل مکانی کرنے کے عمل نے بچوں کو اندرونی طور پر توڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہسپتالوں اور نفسیاتی مراکز میں والدین کی جانب سے اپنے بچوں کے لیے مدد کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، لیکن طبی عملہ اور وسائل اس بڑھتے ہوئے دباؤ کے مقابلے میں ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ حکومتی اور سماجی سطح پر اگرچہ اس تناؤ کو کم کرنے کے لیے کچھ اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم جنگ کے خاتمے کے بغیر اس اجتماعی نفسیاتی بحران سے مکمل نبرد آزما ہونا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔