World
اسرائیلی ربی ڈو لیندو کا صہیونی ازم پر تنقیدی بیان اور پس منظر
اسرائیل میں ایک سینئر یہودی ربی کے حالیہ بیان نے ملک بھر میں شدید ہنگامہ برپا کر دیا ہے کیونکہ ان کی پارٹی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو کی حکمران ائتلاف کا حصہ ہے۔ ربی ڈو لیندو کے صہیونی ازم کے خلاف دیے گئے بیانات پر سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔
اسرائیل کی سیاست اور مذہبی حلقوں میں اس وقت شدید ہلچل مچ گئی ہے جب ملک کے ایک انتہائی با اثر اور سینئر ربی ڈو لیندو نے صہیونی ازم کو ایک تباہ کن نظریہ قرار دیا ہے۔ ان کے اس بیان نے نہ صرف عام شہریوں بلکہ اعلیٰ سطحی سیاسی ایوانوں میں بھی طوفان کھڑا کر دیا ہے کیونکہ ربی ڈو لیندو کی سیاسی جماعت موجودہ وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو کے حکمران ائتلاف کا ایک اہم حصہ ہے۔
ربی ڈو لیندو کو الٹرا آرتھوڈوکس (حریدی) حلقوں میں انتہائی احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور وہ دینی امور پر ایک مضبوط گرفت رکھتے ہیں۔ ان کے اس طرح کے بیانات عام طور پر روایتی صہیونی نظریات کے برخلاف سمجھے جاتے ہیں، تاہم اس بار ان کی طرف سے صہیونی ازم کو براہ راست تنقید کا نشانہ بنانا اور اسے تباہ کن کہنا ایک غیر معمولی قدم مانا جا رہا ہے۔ اس بیان کے بعد نیتنیاہو حکومت کے اندر بھی اتحادی جماعتوں کے مابین تناؤ میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی میڈیا اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کو اندرونی اور بیرونی محاذوں پر متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ائتلافی حکومت پہلے ہی مختلف پالیسیوں پر اندرونی اختلافات کا شکار ہے اور ربی ڈو لیندو جیسے قدامت پسند مذہبی رہنما کی طرف سے اس نوعیت کے ریمارکس حکمران اتحاد کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
ابھی تک وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو یا ان کے قریبی اتحادیوں کی طرف سے اس بیان پر کوئی باضابطہ اور سخت ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن سیاسی گلیاروں میں یہ چہ مگوئیاں عروج پر ہیں کہ آیا یہ بیان حکومت کی بنیادوں کو ہلا سکے گا یا نہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اسرائیل کے مذہبی اور سیاسی منظرنامے پر اس واقعے کے طویل مدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔