LIVE
Loading Breaking News...

افغانستان کے پنجشیر میں زمرد کی کان کنی اور عالمی مارکیٹ

News Image
افغانستان کی وادی پنجشیر میں زمرد کے کان کن انتہائی کٹھن حالات میں بنیادی اوزاروں کے ذریعے قیمتی پتھر نکال رہے ہیں۔ ان تمام مشکلات کے باوجود یہ زمرد عالمی منڈی کے خریداروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
افغانستان کے صوبے پنجشیر کی سرسبز اور بلند و بالا وادیوں میں زمرد کی کان کنی کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے، جہاں مقامی کان کن انتہائی کٹھن اور خطرناک حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کان کنوں کے پاس جدید مشینری یا تحفظ کے جدید آلات موجود نہیں ہیں، بلکہ وہ روایتی اور انتہائی بنیادی اوزاروں کی مدد سے پہاڑوں کے سینے سے یہ قیمتی سبز پتھر تلاش کرتے ہیں۔ اس عمل میں نہ صرف ان کی جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ محنت طلب مشقت کے باوجود معاوضہ بھی ان کی محنت کے مطابق نہیں ہوتا۔ پنجشیر کے پہاڑوں کی چوٹیوں پر موسم کی شدت، کچے راستے اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ کان کنوں کے روزمرہ کے مسائل کا حصہ ہیں۔ اس کے باوجود، یہاں کے زمرد کی اندرونی چمک اور اعلیٰ معیار نے بین الاقوامی منڈیوں میں ایک خاص مقام حاصل کر لیا ہے۔ دنیا بھر سے قیمتی پتھروں کے تاجر اور خریدار ان زمرد کی خریداری میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، کیونکہ ان پتھروں کی رنگت اور ساخت اپنی مثال آپ ہوتی ہے۔ حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر افغان زمرد کی مانگ میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے مقامی معیشت اور کان کنوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن روشن ہوئی ہے۔ اگرچہ کان کنوں کو اپنی محنت کا پورا صلہ ملنے میں ابھی کئی رکاوٹیں حائل ہیں، لیکن بین الاقوامی خریداروں کی آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ پنجشیر کی کانوں میں چھپا یہ قدرتی خزانہ عالمی مارکیٹ میں اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے اگر کان کنی کے شعبے میں بہتری لائی جائے تو یہ نہ صرف کان کنوں کے لیے سودمند ثابت ہوگا بلکہ ملک کی برآمدات میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔