World
یمن میں معاشی بحران، مہنگائی اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے عوام پریشان
شدید لڑائی اور جاری بحران کے باعث یمن میں معاشی مشکلات خطرناک حد تک بڑھ گئی ہیں۔ عدن سے لے کر صنعاء تک عام شہری تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔
یمن میں جاری شدید لڑائی اور تنازعات کے درمیان عام شہریوں کو ایک گہرے معاشی بحران کا سامنا ہے، جس نے ملک کے طول و عرض میں زندگی کو انتہائی دشوار بنا دیا ہے۔ عدن سے لے کر دارالحکومت صنعاء تک لاکھوں یمنی شہری روزمرہ کی بنیادی اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ صورتحال اتنی ابتر ہو چکی ہے کہ خاندانوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ایک ناممکن خواب بنتا جا رہا ہے۔
اس بحران کا ایک اور انتہائی دردناک پہلو سرکاری ملازمین کو طویل عرصے سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں تقسیم شدہ انتظامی ڈھانچے اور اقتصادی دباؤ کی وجہ سے ملازمین مہینوں سے تنخواہوں سے محروم ہیں، جس کی وجہ سے ان کے پاس اپنے اہل خانہ کی کفالت کا کوئی معتبر ذریعہ باقی نہیں بچا۔ اس مالی بدحالی نے متوسط اور غریب طبقے کے لوگوں کو شدید ڈپریشن اور بے بسی کی حالت میں دھکیل دیا ہے۔
بین الاقوامی امدادی اداروں اور معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یمن میں فوری طور پر اقتصادی امداد فراہم نہ کی گئی اور جنگ بندی کے لیے ٹھوس کوششیں نہ کی گئیں، تو یہاں انسانی المیہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ اشیائے خوراک کی درآمدات میں کمی اور مقامی کرنسی کی قدر میں گراوٹ نے مہنگائی کے تمام پچھلے ریکارڈ توڑ دیے ہیں، جس کا خمیازہ براہ راست معصوم یمنی عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔