World
سات اکتوبر کے واقعات اور لبنان کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال
تجزیہ کاروں کے مطابق آٹھ اکتوبر کو غزہ کی حمایت میں جنگ میں شامل ہونے کے حزب اللہ کے فیصلے نے لبنان کی مجموعی سیاسی حقیقت کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ خطے کی صورتحال اور مقامی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔
بین الاقوامی امور اور خطے کے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آٹھ اکتوبر کو حزب اللہ کی جانب سے غزہ کے ساتھ یکجہتی کے طور پر 'سپورٹ وار' میں شامل ہونے کا جو فیصلہ کیا گیا تھا، اس نے لبنان کی اندرونی اور بیرونی سیاسی حقیقت کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس تاریخی اور انتہائی اہم فیصلے کے بعد سے لے کر اب تک خطے کے طاقت توازن میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں، جن کے اثرات لبنان کے مستقبل پر طویل عرصے تک مرتب رہیں گے۔
ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ حزب اللہ کی اس شمولیت نے نہ صرف عسکری محاذ پر ایک نئی محاذ آرائی کو جنم دیا ہے بلکہ لبنانی سیاست کے اندرونی توازن کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ ملک کے مختلف سیاسی دھڑے اس جنگی فیصلے پر سخت منقسم دکھائی دیتے ہیں، جہاں ایک طرف مزاحمتی بلاک کے حامی اس اقدام کو خطے میں مسلم امہ اور فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا لازمی حصہ قرار دے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف مخالف سیاسی جماعتیں اسے ملک کو ایک ایسی تباہ کن جنگ میں دھکیلنے کے مترادف سمجھتی ہیں جس کا متحمل لبنان کا کمزور معاشی ڈھانچہ نہیں ہو سکتا۔
اس صورتحال نے لبنان کے اندر حکومتی اداروں، انتظامی ڈھانچے اور ریاستی رٹ کو بھی شدید دباؤ میں لا کھڑا کیا ہے۔ معاشی بحران کے پہلے ہی شکار اس ملک میں اندرونی نقل مکانی اور انفراسٹرکچر کی تباہی نے عوامی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں لبنانی سیاست کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ یہ علاقائی تنازعہ کس سمت آگے بڑھتا ہے اور کیا فریقین کسی پائیدار جنگ بندی یا سفارتی حل کی طرف بڑھنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔
نئی سیاسی حقیقت نے لبنان کے بین الاقوامی تعلقات کو بھی متاثر کیا ہے، جہاں مغربی اور علاقائی طاقتیں مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ ملک کو مزید وسیع تر تباہی سے بچانے کے لیے سیاسی دانشمندی سے کام لیا جائے۔ حزب اللہ اور لبنان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے یہ موڑ انتہائی فیصلہ کن ثابت ہونے کی توقع ہے، جس کے دور رس نتائج آنے والے مہینوں میں مزید واضح ہو کر سامنے آئیں گے۔