LIVE
Loading Breaking News...

غزہ جنگ کی تباہ کاری، ماضی اور حال کی تصاویر

News Image
آرکائیو اور حالیہ تصاویر سے انکشاف ہوا ہے کہ جنگ نے غزہ کی سڑکوں، تاریخی مقامات اور عوامی عمارتوں کو مکمل طور پر ناقابل شناخت بنا دیا ہے۔ تین سالہ طویل تنازعے نے شہر کے بنیادی ڈھانچے کو ملبے کا ڈھیر بنا ڈالا ہے۔
تین سال تک جاری رہنے والی تباہ کن جنگ نے غزہ کے جغرافیے، ثقافتی ورثے اور عوامی زندگی کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ اور پرانی آرکائیو تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خطے کو کتنی بے دردی سے نشانہ بنایا گیا ہے، جہاں اب سڑکیں، تاریخی مقامات اور رہائشی علاقے اپنے ہی شہر سے اجنبی لگتے ہیں۔ یہ بصری شواہد اس المیے کی عکاسی کرتے ہیں جو اس خطے کے باسیوں پر گزرا ہے۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے غزہ کی گلیاں زندگی کی چہل پہل سے آباد تھیں، جہاں تجارتی مراکز، اسکول، ہسپتال اور تفریحی مقامات لوگوں کا مرکز تھے۔ لیکن اب صورتحال بالکل مختلف ہے۔ طویل بمباری اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں بلند و بالا عمارات کنکریٹ کے ڈھیروں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ سڑکوں کے نام و نشان مٹ چکے ہیں اور میلوں تک صرف ملبے کے ڈھیر نظر آتے ہیں، جن میں سے اپنے گھروں کی باقیات تلاش کرنا بھی محال ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہونے والی اس بنیادی ڈھانچے کی تباہی کی مثال حالیہ تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔ صحت اور تعلیم کا نظام پہلے ہی مفلوج ہو چکا تھا، لیکن اب رہائشی علاقے بھی اس قابل نہیں رہے کہ وہاں فوری طور پر زندگی بحال کی جا سکے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور وہ عارضی خیموں میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تباہ شدہ شہر کی تعمیرِ نو اور اسے دوبارہ رہنے کے قابل بنانے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ غزہ کے باسیوں کے لیے یہ تصاویر نہ صرف ان کے ماضی کی یادگار ہیں بلکہ اس کٹھن حقیقت کا منہ بولتا ثبوت بھی ہیں جو انہوں نے برداشت کی ہے۔ عالمی برادری کے لیے بھی یہ صورتحال ایک بڑا امتحان ہے کہ وہ اس انسانی المیے کے بعد خطے کی بحالی میں کیا کردار ادا کرتی ہے۔