LIVE
Loading Breaking News...

نیویارک میں آئی سی ای کی فائرنگ، شہری زخمی اور شدید احتجاج

News Image
امریکہ کے شہر نیویارک میں امیگریشن حکام کی جانب سے ایک شہری کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے کے بعد شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اس واقعے کے خلاف شہریوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا ہے۔
امریکہ کے مصروف ترین شہر نیویارک میں اس وقت شدید ہنگامہ آرائی اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی جب وفاقی امیگریشن حکام نے ایک کارروائی کے دوران ایک شخص کو گولی مار کر زخمی کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئی سی ای (ICE) کے ایجنٹس نے ایک مشتبہ گاڑی کو گھیرے میں لیا تھا، اور اسی دوران کارروائی کے دوران فائرنگ کی گئی جس سے گاڑی میں سوار شخص زخمی ہو گیا۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس واقعے کے وقت گاڑی کے اندر ایک معصوم بچہ بھی موجود تھا، جس کے بعد عوامی حلقوں میں اس کارروائی کے خلاف شدید غصہ پایا جاتا ہے۔اس پرتشدد واقعے کے فوری بعد نیویارک کے مختلف علاقوں میں شہریوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید احتجاج شروع کر دیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس طرح اندھا دھند طاقت کا استعمال اور وہ بھی ایسی گاڑی پر جہاں بچے موجود ہوں، سراسر غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک عمل ہے۔ مظاہرین نے حکام سے اس واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ اور پولیس نے صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے اضافی نفری تعینات کر دی ہے۔ شہریوں کی جانب سے جاری احتجاج اور نعرے بازی کے باعث کئی مقامات پر ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا ہے۔ نیویارک کے سیاسی رہنماؤں نے بھی اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ امیگریشن اداروں کے طریقہ کار کا از سر نو جائزہ لیا جائے تاکہ آئندہ اس قسم کے خوفناک واقعات سے بچا جا سکے اور معصوم شہریوں بالخصوص بچوں کی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔