Pakistan
مستحق شہریوں کیلئے ٹارگٹڈ فیول ریلیف اسکیم پر عملدرآمد کا جائزہ
حکومت نے ملک کے مستحق اور کم آمدنی والے شہریوں کو ٹارگٹڈ فیول سبسڈی فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ڈپٹی وزیراعظم نے اس حوالے سے اسکیم کے آپریشنل امور اور عمل درآمد کی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا۔
حکومت پاکستان نے مہنگائی کے اس دور میں عام آدمی بالخصوص کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک بار پھر ہدف شدہ یعنی ٹارگٹڈ فیول ریلیف اسکیم پر سختی سے عمل درآمد کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس سلسلے میں اعلیٰ سطح پر ہونے والے اجلاسوں میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے کروڑوں شہریوں کو براہ راست ایندھن پر سبسڈی فراہم کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ امداد صرف اور صرف مستحق افراد تک ہی پہنچے۔ ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے حال ہی میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کی جس میں اس ٹارگٹڈ فیول سبسڈی اسکیم کی موجودہ آپریشنل حیثیت اور اس کی حتمی عمل درآمد کی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران متعلقہ حکام نے انہیں بریفنگ دی کہ کن مراحل کے تحت عام شہریوں کی چھان بین کی جا رہی ہے اور کس طرح بینظیر انکم سپورٹ پروگرام یا دیگر ڈیٹا بیس کی مدد سے مستحقین کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب اقتصادی ماہرین اور حکارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاو اور جیو پولیٹیکل کشیدگی کے باعث ملکی معیشت پر دباؤ موجود ہے، تاہم حکومت پٹرولیم لیوی کے اہداف میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور کثیر جہتی شراکت داروں کی مشاورت کے بغیر کوئی تبدیلی نہیں کر سکتی۔ وزیر نے واضح کیا کہ ملک کی معاشی پالیسیاں طے شدہ اہداف اور عالمی معاہدوں کے عین مطابق چلائی جا رہی ہیں۔ اس تمام صورتحال میں ملک کے گیگ ورکرز، رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیورز اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے وہ طبقات جو ایندھن کے نرخوں میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، حکومت کی اس نئی ٹارگٹڈ ریلیف پالیسی سے بڑی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ بجٹ کے خسارے کو قابو میں رکھتے ہوئے کمزور ترین طبقات کو اس مالی دباؤ سے نکالا جائے۔