World
ٹرمپ کا ایران پالیسی اور مڈٹرم انتخابات سے متعلق نیا بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مڈٹرم انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی تردید کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ تجزیہ کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا انتخابات کے بعد تہران کے خلاف کوئی سخت قدم اٹھایا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ وہ مڈٹرم انتخابات سے قبل ایران پر کسی بھی حملے کا ارادہ نہیں رکھتے، عالمی سیاسی اور معاشی حلقوں میں گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے۔ مختلف عالمی میڈیا اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس بیان کے بعد جہاں ایک طرف کشیدگی میں وقتی کمی کے آثار نمایاں ہوئے ہیں، وہیں ماہرین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیا یہ اعلان صرف انتخابی نوعیت کا ہے یا پھر اس کے پیچھے طویل المدتی حکمت عملی کارفرما ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ٹرمپ کے اس موقف کے فوراً بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کو فوری فوجی تصادم کا خدشہ کم محسوس ہو رہا ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکام اور تجزیہ کار بھی واشنگٹن کے ان بیانات کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مستقبل کے ممکنہ خطرات کا اندازہ لگایا جا سکے۔ تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری سفارتی پس منظر اور ممکنہ مذاکرات کی خبریں بھی مسلسل زیرِ گردش ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران اس قسم کے بیانات کا مقصد ملکی سیاست میں اپنے ووٹرز کو مطمئن کرنا ہو سکتا ہے، تاہم مڈٹرم انتخابات کے نتائج کے بعد امریکی خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلی متوقع ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن و امان کی صورتحال اور ایران کے ساتھ کشیدگی کے حوالے سے غیر یقینی کی فضا تاحال برقرار ہے اور تمام فریقین انتہائی احتیاط کے ساتھ اگلے قدم کا انتظار کر رہے ہیں۔