World
قازقستان بین المذاہب اجلاس: موسمیاتی تبدیلی اور اے آئی پر گفتگو
قازقستان میں منعقدہ بین المذاہب اجلاس کے دوران دنیا بھر کے مذہبی رہنماؤں نے موسمیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت اور بچوں کے حقوق جیسے اہم عالمی امور پر غور کیا ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جدید دنیا کو پرانے چیلنجز کے ساتھ ساتھ نئے مسائل کا سامنا ہے جن کا حل مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔
قازقستان میں دنیا بھر سے آئے ہوئے ممتاز مذہبی رہنماؤں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کا بنیادی مقصد موجودہ دور کے بڑے عالمی چیلنجز پر غور کرنا تھا۔ اس چوٹی کانفرنس میں مختلف مذاہب کے قائدین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ انسانیت کو درپیش پیچیدہ مسائل، خصوصاً موسمیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت کے دور رس اثرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔ اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی انسانی فلاح کے لیے ہونی چاہیے اور اس کے منفی اثرات سے سماج کو محفوظ رکھنا ہر مذہب اور فکری مکتبہ فکر کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ اینگلیکن کمیون اور مسلم کونسل آف ایلادرز سمیت مختلف عالمی تنظیموں کے نمائندوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جدید دنیا میں پرانے تنازعات کے ساتھ ساتھ نئی تکنیکی بیماریاں اور اخلاقی بحران بھی جنم لے رہے ہیں۔ اجلاس کے شرکاء نے بچوں کے حقوق کے تحفظ اور ماحولیاتی تباہی کو روکنے کے لیے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مذہبی اقدار اور روایات انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور زمین کو ماحولیاتی انحطاط سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ کانفرنس کے اختتام پر تمام اکابرین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے اپنے پیروکاروں میں اس حوالے سے شعور اجاگر کریں گے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک پائیدار اور محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔ اس نوعیت کے بین المذاہب مکالمے عالمی سطح پر امن، ہم آہنگی اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے انتہائی ناگزیر سمجھے جا رہے ہیں۔