Politics
آزاد کشمیر انتخابات: دوسرا مرحلہ اختتام پذیر، پی پی پی کے دھاندلی کے الزامات
آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران مظفر آباد اور مہاجر حلقوں میں پولنگ کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن پر دھاندلی اور کارکن کے قتل کا الزام عائد کیا ہے جبکہ ن لیگ نے اس کی تردید کی ہے۔
آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات کے دوسرے مرحلے کے تحت اتوار کو پولنگ کا عمل پرامن اور کشیدہ ماحول میں مکمل ہو گیا۔ یہ پولنگ مظفر آباد ڈویژن کے نو میں سے آٹھ حلقوں اور ملک بھر کے 12 مہاجر حلقوں میں منعقد ہوئی۔ مہاجر نشستوں کے لیے صبح آٹھ بجے شروع ہونے والی پولنگ شام پانچ بجے تک جاری رہی، جبکہ مظفر آباد میں ایک گھنٹے کی توسیع کے بعد پولنگ کا عمل شام چھ بجے ختم ہوا۔ آزاد کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر غلام مصطفی مغل کے مطابق شدید بارش کے باعث حلقہ ایل اے 27 مظفر آباد ون میں انتخابی عمل کو ملتوی کرنا پڑا۔ مظفر آباد کی نشستوں اور مہاجر حلقوں کے لیے تین سو سے زائد امیدوار انتخابی میدان میں موجود تھے۔ اس دوران مختلف پولنگ سٹیشنز پر گہما گہمی دیکھی گئی اور انتخابی عمل کے دوران متعدد مقامات پر بدنظمی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
انتخابات کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ ن پر شدید تنقید کرتے ہوئے ووٹ چرانے اور دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کیے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے پارٹی کے علاقائی صدر اور حلقہ ایل اے 31 سے امیدوار چوہدری لطیف اکبر پر حملے کی شدید مذمت کی اور دعویٰ کیا کہ اسی حلقے میں فائرنگ کے نتیجے میں ایک پی پی پی کارکن مشتاق شاہ جاں بحق ہو گیا۔ بلاول بھٹو نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے عوام کے ووٹ بندوق اور دھونس کے زور پر چھین رہی ہے اور انہوں نے واقعے میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ دریں اثنا، پی پی پی رہنما نیر حسین بخاری نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان انتخابات کے دوران پارٹی کے آٹھ کارکن زخمی ہو چکے ہیں اور اس وقت آزاد کشمیر میں قانون نام کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ جاں بحق ہونے والا شخص کسی گولی کا نشانہ نہیں بنابلکہ اس کی موت دل کا دورہ پڑنے سے واقع ہوئی۔ راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران مسلم لیگ ن پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ اٹھارہ سے ستر سال کی عمر کا وہ شخص دو فریقین کے درمیان لڑائی ختم کرانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران اسے دل کا دورہ پڑ گیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ن لیگ اور پی پی پی کے کارکنوں کے درمیان جھگڑا ضرور ہوا تھا، جو کہ ایک افسوسناک واقعہ ہے، لیکن اس واقعے کو سیاسی رنگ دینا اور فائرنگ کا الزام لگانا بے بنیاد ہے۔ ادھر چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن قانون کے مطابق کام کرے گا اور کسی کے دباؤ میں نہیں آئے گا۔ یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں سیکیورٹی خدات کے پیش نظر انتخابات تین مرحلے میں منعقد کیے جا رہے ہیں، جن کا پہلا مرحلہ ستائیس جولائی کو میرپور ڈویژن میں ہوا تھا جبکہ تیسرا اور آخری مرحلہ دس اگست کو پونچھ ڈویژن میں منعقد ہوگا۔