Technology
امریکی گرین کارڈ پالیسی میں تبدیلی، آئی ٹی ورکرز شدید متاثر
امریکہ کی جانب سے گرین کارڈ اور غیر ملکی ورکرز کے ویزا پروگرامز کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے مائیکروسافٹ اور انفوسس سمیت کئی بڑی آئی ٹی کمپنیوں کے ہزاروں ملازمین کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
واشنگٹن: امریکہ کی جانب سے گرین کارڈ اور امیگریشن کے قوانین میں اچانک سختی کے بعد دنیا بھر سے امریکہ جانے والے ہزاروں آئی ٹی پروفیشنلز اور ورکرز کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ نے مائیکروسافٹ، ایڈوب اور انفوسس جیسی بڑی معروف ٹیک کمپنیوں کے گرین کارڈ اور غیر ملکی ورکرز کی خدمات حاصل کرنے کے پروگراموں پر مبینہ فراڈ کی تحقیقات کے باعث پابندی یا فریز عائد کر دی ہے۔ اس اقدام کو ماہرین نے انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے کیونکہ اس سے قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کی نوکریاں اور شہریت کے حصول کے راستے طویل اور کٹھن ہو جائیں گے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سخت قوانین سے آئی ٹی ورکرز کی حیثیت ایک قسم کے غلام یا بنے بنائے معاہدے کے پابند ملازمین جیسی ہو کر رہ جاتی ہے۔ دوسری جانب اس کریک ڈاؤن کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرتے ہوئے سٹوڈنٹ ایکسچینج ویزوں اور ورک پرمٹس کے حوالے سے بھی سخت جانچ پڑتال شروع کر دی گئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس اور دیگر متعلقہ امریکی وفاقی اداروں کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ امیگریشن کے عمل میں کسی قسم کی خلاف ورزی یا دھوکہ دہی نہ ہو، تاہم اس پالیسی کے نفاذ سے ان ہزاروں ہنرمند نوجوانوں اور پروفیشنلز کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے جو برسوں سے امریکہ میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور مستقل رہائش کے منتظر ہیں۔