LIVE
Loading Breaking News...

پولانْسکی کا گرین پارٹی کی قیادت چھوڑنے سے صاف انکار

News Image
برطانوی گرین پارٹی کے رہنما پولانْسکی نے حالیہ ضمنی انتخاب میں شکست اور صیہونیت سے متعلق تنازع کے بعد سامنے آنے والے استعفے کے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے اور پارٹی کی قیادت جاری رکھیں گے۔
برطانوی گرین پارٹی کے رہنما پولانْسکی نے حالیہ ضمنی انتخاب میں شکست اور صیہونیت سے جڑے ایک تنازع کے بعد پارٹی کے اندر سے اٹھنے والی استعفے کی آوازوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ میں نہیں آئیں گے اور پارٹی کی قیادت اپنے پاس ہی رکھیں گے۔ سیاسی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچی ہوئی ہے جب پارٹی کے اندر سے ہی یہ مطالبات سامنے آئے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر انہیں فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ یہ سارا تنازع ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کر گیا جب پارٹی کو حالیہ ضمنی انتخاب میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ انتخاب میں شکست کے بعد جماعت کے اندر پہلے ہی بے چینی پائی جا رہی تھی، اور صیہونیت سے متعلقہ امور پر ہونے والی بحث نے اس کشیدگی کو مزید ہوا دی۔ پارٹی کے اندر موجود یہودی گرینز کے رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ موجودہ حالات میں سیاسی اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ قیادت ذمہ داری قبول کرتے ہوئے نئے انتخابات یا تبدیلی کی راہ ہموار کرے۔ اس تمام پس منظر کے باوجود، پولانْسکی نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ مشکل گھڑی میں پارٹی کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ جماعت کو درپیش چیلنجز سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور تنقید کے باوجود اپنا کام جاری رکھیں گے۔ سیاسی محاذ پر اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ اندرونی اختلافات اور بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود پولانْسکی کتنے عرصے تک اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں، کیونکہ مخالفین کی جانب سے ان پر دباؤ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔