LIVE
Loading Breaking News...

الیکشن کمیشن: ووٹر لسٹوں سے لاکھوں فوت شدہ ووٹرز کے نام خارج

News Image
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے فوت شدہ ووٹرز کے نام خارج کیے جانے کے بعد ملک بھر میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مئی سے جولائی کے دوران مجموعی ووٹرز کی تعداد 13 کروڑ 65 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ووٹر لسٹوں کی مسلسل صفائی اور تجدید کے عمل کے دوران ملک بھر میں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سات مئی سے دو جولائی کے درمیان ملک کے انتخابی گوشواروں سے پانچ لاکھ نواسی ہزار چار سو اٹھاون ووٹرز کم ہو گئے ہیں۔ اس عرصے کے دوران اگرچہ ملک بھر میں نوے ہزار سے زائد نئے ووٹرز کا اندراج بھی کیا گیا، تاہم اس کے مقابلے میں چودہ لاکھ اسی ہزار سے زائد فوت شدہ ووٹرز کے نام لسٹوں سے خارج کیے گئے جس کی وجہ سے مجموعی طور پر ووٹرز کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی۔ اعداد و شمار کے مطابق کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد سات مئی کو ایک کروڑ سینتیس لاکھ سولہ ہزار سے زائد تھی جو دو جولائی کو کم ہو کر ایک کروڑ چھتیس لاکھ ستاون ہزار تک پہنچ گئی۔ اس کمی کے نتیجے میں مرد اور خواتین ووٹرز کے درمیان فرق میں بھی کسی حد تک کمی واقع ہوئی ہے اور ملک کے بیشتر اضلاع میں ووٹرز کی تعداد میں تنزلی ریکارڈ کی گئی ہے۔ صوبائی سطح پر تجزیہ کیا جائے تو پنجاب کا حصہ اس کمی میں سب سے زیادہ رہا ہے جہاں اکیلے اس صوبے میں چار لاکھ اٹھাত্তر ہزار سے زائد ووٹرز کم ہوئے ہیں۔ پنجاب کے کئی بڑے اضلاع مثلاً فیصل آباد، شیخوپورہ، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں فوت شدہ افراد کے نام خارج کیے جانے کا عمل بڑے پیمانے پر جاری رہا جس سے مجموعی اعداد و شمار پر گہرا اثر پڑا۔ فیصل آباد میں سب سے زیادہ اڑتالیس ہزار سے زائد اندراجات کو ختم کیا گیا جبکہ لاہور اور راولپنڈی سمیت دیگر بڑے شہروں میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا۔ دوسری جانب سندھ میں بھی ستانوے ہزار سے زائد ووٹرز کم ہوئے جہاں کراچی ساؤتھ اور کراچی ایسٹ سرفہرست رہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹوں کی اس درستگی سے آئندہ کے انتخابی عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی کیونکہ فوت شدہ افراد کے ناموں کا لسٹوں میں موجود رہنا انتخابی عمل کی ساکھ کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان سمجھا جاتا تھا۔ الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ یہ تمام کارروائی شفاف طریقے سے قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے انجام دی گئی ہے تاکہ ووٹر لسٹیں بالکل درست اور قابل اعتماد رہیں۔