LIVE
Loading Breaking News...

امریکی آرمی فائرنگ: زندہ بچ جانے والے کا حملہ آور کی سزائے موت پر مؤقف

News Image
امریکی آرمی فائرنگ کے واقعے سے جان بچانے والے ایلونسو لنسفورڈ کا کہنا ہے کہ حملہ آور کی سزا جرم کے مطابق ہونی چاہیے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر شک کا اظہار کیا ہے کہ آیا عوام کو اس کی لائیو سٹریمنگ دیکھنے کی اجازت ہونی چاہئے۔
امریکی فوج کے فائرنگ کے ایک ہولناک واقعے میں معجزانہ طور پر زندہ بچ جانے والے ایلونسو لنسفورڈ نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ آور کو ملنے والی سزا اس کے بھیانک جرم کے بالکل مطابق ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ قانون کے کٹہرے میں ایسے مجرموں کے خلاف سخت ترین کارروائی ہونی چاہئے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں اور متاثرہ خاندانوں کو کچھ سکون مل سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کے سنگین جرائم میں ملوث افراد کے لیے سزائے موت ایک مناسب اور منطقی قدم ہے۔تاہم، اس تمام صورتحال کے دوران ایلونسو لنسفورڈ نے ایک اہم اخلاقی اور قانونی نکتہ اٹھاتے ہوئے اس عمل کی براہ راست نشریات یا لائیو سٹریمنگ پر اپنے گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ سزا کا نفاذ قانون کے مطابق ہونا ضروری ہے، لیکن اس کی عوامی سطح پر لائیو سٹریمنگ کرنے سے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا اس قسم کے مناظر کو عامتہ الناس بالخصوص کم عمر افراد کے سامنے لائیو دکھانا مناسب ہے یا نہیں۔ اس سے معاشرے میں تشدد کے رجحانات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور یہ طریقہ کار متاثرین کے لیے بھی مزید ذہنی اذیت کا باعث بن سکتا ہے۔یہ پورا معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ بھر میں مجرموں کو دی جانے والی سزاؤں اور ان کی تشہیر کے طریقوں کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ ماہرین قانون اور سماجی حلقے اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ انصاف کی فراہمی اور عوامی دلچسپی کے درمیان کس طرح توازن قائم رکھا جائے۔ ایلونسو لنسفورڈ کے ان بیانات نے ایک بار پھر اس بحث کو تازہ کر دیا ہے کہ آیا انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے میڈیا اور ٹیکنالوجی کا استعمال کس حد تک درست ہے اور کہاں اخلاقی حدود کا خیال رکھا جانا چاہئے۔