World
کیف کے مکینوں کی دیہی علاقوں کی جانب نقل مکانی، سردی اور حملوں کا خوف
یوکرین کے دارالحکومت کیف کی ایک رہائشی نے موسم سرما کی شدت اور روسی حملوں کے خطرے کے پیش نظر دیہی علاقے میں پناہ لے لی ہے۔ وہ ایسے تمام مقامات سے دور چلی گئی ہیں جو روسی افواج کا ممکنہ ہدف بن سکتے ہیں۔
یوکرین کے دارالحکومت کیف میں رہنے والے شہریوں نے شدید سرد موسم اور مسلسل روسی حملوں کے خطرات کے پیش نظر اپنے گھر بار چھوڑ کر دیہی علاقوں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ یوکرین میں آنے والے سردیوں کے مہینے مکینوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں کیونکہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے خدشات بدستور برقرار ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کیف کی ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ انہوں نے ان تمام علاقوں اور تنصیبات سے دور جانے کا فیصلہ کیا ہے جو کسی بھی وقت روسی حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موسم سرما کی آمد سے قبل محفوظ مقامات پر منتقل ہونا ناگزیر ہو چکا تھا تاکہ شدید سردی اور ممکنہ بمباری کے اثرات سے بچا جا سکے۔
یوکرین بھر میں حکام اور امدادی تنظیمیں بھی اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں کر رہی ہیں، تاہم عام شہریوں میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔ کئی خاندان اپنے بچوں اور بزرگوں کو لے کر دیہی علاقوں میں موجود رشتہ داروں کے پاس یا نسبتاً محفوظ دیہات میں پناہ لے رہے ہیں تاکہ جنگ اور سردی دونوں کے وار سے محفوظ رہ سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سال کا موسم سرما یوکرین کے لیے انتہائی کٹھن ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر دارالحکومت اور بڑے شہروں میں جہاں بنیادی سہولیات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ نقل مکانی کا یہ سلسلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عام شہری جنگ کے ماحول میں اپنی بقا کے لیے کس حد تک پریشان ہیں۔