World
لندن میں یہودی مقامات کی نگرانی کی تردید، دو افراد کا عدالت سے انکار
لندن میں یہودی اور اسرائیلی مقامات کی مبینہ جاسوسی کے الزام میں گرفتار دو افراد نے عدالت میں الزامات کی تردید کر دی ہے۔ اس مقدمے میں اسرائیلی سفارت خانے اور برطانوی عبادت گاہوں کی نگرانی کے الزامات شامل ہیں۔
برطانوی دارالحکومت لندن میں ایک اہم عدالت کے سامنے دو افراد نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ وہ ایران کی حمایت یافتہ سرگرمیوں کے تحت لندن میں موجود یہودی اور اسرائیلی مقامات کی نگرانی کر رہے تھے۔ اس مقدمے نے برطانوی سکیورٹی حلقوں میں شدید ہلچل مچا دی ہے کیونکہ اس میں حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کے خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔ استغاثہ کے مطابق جن اہداف کی مبینہ طور پر نگرانی کی جا رہی تھی ان میں اسرائیلی سفارت خانہ، قونصل خانہ، ایک کالج اور برطانیہ کا قدیم ترین عبادت خانہ (سیناگاگ) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ایسی خاتون کو بھی ہدف بنایا گیا تھا جسے مبینہ طور پر ایران کی دلچسپی کا محور قرار دیا گیا ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران دونوں ملزمان نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اوپر عائد کردہ دفعات کو غلط قرار دیا۔ اس معاملے کی حساسیت کے پیش نظر برطانوی سیکورٹی ادارے انتہائی پھرتی سے تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ اس نیٹ ورک کی مزید تہوں تک پہنچا جا سکے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ بین الاقوامی تعلقات اور برطانیہ کی داخلی سلامتی کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ عدالت میں مزید شواہد پیش کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے اور جج نے اس کیس کی اگلی سماعت تک کارروائی کو آگے بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ برطانوی میڈیا میں اس خبر کو نمایاں جگہ دی جا رہی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے حساس مقامات پر سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ اس معاملے کی تحقیقات کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم فی الحال قانونی کارروائی اپنی پوری رفتار سے جاری ہے۔