LIVE
Loading Breaking News...

ملازمت کے معاہدوں میں نان کمپیت قوانین پر قابو پانے کا عزم

News Image
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ملازمین کے نوکری چھوڑنے کے بعد پابندیاں حد سے بڑھ چکی ہیں۔ حکومت ان غیر منصفانہ شرائط پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔
وزیراعظم نے اپنے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ ملازمین کے ملازمت چھوڑنے کے بعد ان کی نئی جاب پر عائد کی جانے والی پابندیاں اب حد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نان کمپیت (non-compete) کے یہ سخت اصول نہ صرف ورکرز کی پیشہ ورانہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں بلکہ مجموعی طور پر لیبر مارکیٹ کی حرکیات کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ ان معاہدوں میں اس قسم کی شقوں کو سختی سے محدود کیا جائے تاکہ عام کارکنان بغیر کسی بلاوجہ کی قانونی رکاوٹ کے اپنے کیریئر میں آگے بڑھ سکیں۔ اس فیصلے کا مقصد مارکیٹ میں صحت مند مسابقت کو فروغ دینا اور نئے اور چھوٹے کاروباروں کے لیے ہنر مند افراد کی دستیابی کو آسان بنانا ہے۔ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ کمپنیاں اپنے ملازمین کو نوکری چھوڑنے کے بعد طویل عرصے تک اسی نوعیت کا دوسرا کام کرنے سے روکنے کے لیے ایسے معاہدے استعمال کرتی ہیں، جس سے ملازمین کا استحصال ہوتا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق اس رجحان کو اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس کے خاتمے کے لیے جامع اصلاحات متعارف کروائی جائیں گی۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس قدم سے ملازمین کو زیادہ آزادی ملے گی اور وہ زیادہ بہتر معاوضے اور مراعات کے لیے دوسری کمپنیوں میں جانے کا انتخاب کر سکیں گے۔ اس سے کارپوریٹ سیکٹر میں اجارہ داری کا خاتمہ ہوگا اور نوکری کے بہتر مواقع پیدا ہوں گے۔ حکومت آنے والے دنوں میں اس حوالے سے باقاعدہ قانونی مسودہ پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ آجر اور اجیر کے درمیان توازن قائم کیا جا سکے۔