LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کی جانب سے بین الاقوامی فوجداری عدالت پر نئی پابندیاں

News Image
امریکی حکومت نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہوئے اس پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس تازہ ترین اقدام کا مقصد عالمی ٹریبونل کے وسائل کو محدود کرنا اور اس کی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔
واشنگٹن: امریکہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے خلاف اپنی پالیسی کو مزید سخت کرتے ہوئے اس پر براہ راست نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس تازہ ترین اور سخت ترین اقدام کا بنیادی مقصد عالمی عدالت کے وسائل اور فنڈز کو روکنا ہے، تاکہ اس کی تحقیقاتی اور قانونی کارروائیوں کو محدود کیا جا سکے۔ وائٹ ہاؤس اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس سے قبل بھی اس عالمی ادارے کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے اور اسے ختم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا تھا۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت دنیا بھر میں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مقدمات کی سماعت کرنے والا ایک اہم ادارہ ہے۔ تاہم، امریکی حکومت کی جانب سے اس عدالت پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ امریکی فوجیوں اور اس کے اتحادیوں کے خلاف غیر قانونی دائرہ اختیار استعمال کر رہی ہے۔ اس تنازع نے بین الاقوامی قانون اور ریاستوں کی خودمختاری کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے لگائی جانے والی ان پابندیوں کے بعد بین الاقوامی فوجداری عدالت کے لیے اپنے روزمرہ کے امور چلانا اور دنیا بھر میں جاری تحقیقات کو جاری رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ دوسری جانب، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی برادری نے امریکی انتظامیہ کے اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے دنیا بھر میں انصاف کے حصول کی کوششیں کمزور ہوں گی اور طاقتور ممالک کو احتساب سے بچنے کا موقع ملے گا۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ترجمان نے تاحال اس صورتحال پر کوئی باضابطہ تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، لیکن توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی سطح پر اس فیصلے کے گہرے سیاسی اور سفارتی اثرات مرتب ہوں گے۔