Pakistan
پاکستانی فوج کا خلیجی کردار اور پارلیمنٹ کی عدم شمولیت
پاکستانی فوج کے خلیجی خطے اور خصوصاً سعودی عرب میں بڑھتے ہوئے کردار پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہ لینے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس دفاعی معاہدے کے بعد خطے میں نئے جیو پولیٹیکل مباحث شروع ہو گئے ہیں۔
اسلام آباد: پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں ملک کی عسکری قیادت کا خلیجی خطے میں بڑھتا ہوا کردار اور دفاعی سرگرمیاں اس وقت ملکی و بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق پاکستان کے اسٹریٹجک اور دفاعی اقدامات میں پارلیمنٹ کو باضابطہ طور پر اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے، جس پر سیاسی حلقوں اور ماہرین کی طرف سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ وزارتِ خارجہ (ایف او) کا کہنا ہے کہ ریاض میں پاکستان کی قابلِ ذکر فورسز اور وسائل موجود ہیں، جو دونوں برادر ممالک کے درمیان طویل المدتی دفاعی تعاون کا حصہ ہیں۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے، جس کے بعد علاقائی سطح پر بھی سفارتی اور سیاسی ہلچل میں اضافہ ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس معاہدے کے نفاذ کے بعد پڑوسی ملک ایران کی جانب سے بھی اس صورتحال پر ردعمل ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ دیگر بین الاقوامی مبصرین اور تجزیہ کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یمن اور خلیج کے دیگر امور میں پاکستان کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ دریں اثنا، ترکیہ کے وزیرِ خارجہ فیدان کا کہنا ہے کہ مکہ معاہدہ اپنی نوعیت میں مکمل طور پر دفاعی ہے اور ان کا ملک خطے میں مزید فوجی دستے بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان کے اندر یہ بحث زور پکڑتی جا رہی ہے کہ اہم ترین خارجہ اور عسکری فیصلوں میں پارلیمان کی منظوری اور بحث کو یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ فیصلوں کو قومی سطح پر وسیع تر اعتماد حاصل ہو سکے۔