World
بھارت: احتجاج سے قبل اپوزیشن کارکنان کی گرفتاری، دہلی میں سخت سکیورٹی
بھارت میں ایک سیاسی جماعت نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ ویک اینڈ پر ہونے والے احتجاجی مظاہرے سے قبل اس کے درجنوں کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ دارالحکومت دہلی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کرتے ہوئے ہزاروں پولیس اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
نئی دہلی: بھارت میں ایک سیاسی جماعت، جسے عام طور پر 'کاکروچ' پارٹی کے نام سے جانا جاتا ہے، نے الزام عائد کیا ہے کہ حکام نے ویک اینڈ پر ہونے والے ایک بڑے احتجاجی مظاہرے سے عین قبل ان کے درجنوں اراکین کو بڑے پیمانے پر حراست میں لے لیا ہے۔ یہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب الیکشن کمشنر کے فیصلوں اور دیگر حکومتی پالیسیوں کے خلاف ملک کے دارالحکومت میں شدید احتجاج کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ حکومتی احکامات اور انتظامیہ کی جانب سے اس ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لیے دارالحکومت دہلی میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جس کے تحت ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو سڑکوں پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی پولیس کو لاک ڈاؤن جیسی پابندیوں کے نفاذ کے بجائے شہریوں کے پرامن احتجاج کے حق کو سہولت فراہم کرنی چاہیے۔ دوسری جانب، نوجوان اپوزیشن رہنماؤں کا عزم ہے کہ حکومتی جبر، گرفتاریوں اور سخت ترین رکاوٹوں کے باوجود احتجاجی پروگرام طے شدہ شیڈول کے مطابق ہر صورت آگے بڑھایا جائے گا۔ اس تازہ ترین سیاسی کھینچاتانی نے ملک میں جمہوری آزادیوں اور اظہارِ رائے پر پابندیوں کے حوالے سے ایک بار پھر شدید بحث کو جنم دے دیا ہے، جبکہ عام شہریوں اور مسافروں کو بھی سکیورٹی ناکہ بندیوں کے باعث شدید سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔