Business
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، کے ایس ای 100 انڈیکس گر گیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سست روی اور فروخت کے دباؤ کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس میں 350 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے 1.2 ارب ڈالر کی قسط ملنے کے باوجود بازار حصص میں مندی کا رجحان غالب رہا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہفتے کے دوران سست روی کا رجحان دیکھا گیا جہاں کاروباری سیشن کے آغاز میں معمولی بہتری کے بعد فروخت کا دباؤ بڑھ گیا اور کے ایس ای 100 انڈیکس 350 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے احتیاط برتنے اور منافع کی وصولی (پرافٹ ٹیکنگ) کے عمل نے بازار میں تیزی کے رجحان کو دبا دیا، جس کے باعث حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ حال ہی میں ملک کو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے 1.2 ارب ڈالر کی نئی مالی امداد کی منظوری اور اس کی پہلی قسط ملنے کی خبریں سامنے آئی تھیں، تاہم اس کے باوجود سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونے میں وقت لگ رہا ہے اور وہ نئی سرمایہ کاری سے گریزاں نظر آ رہے ہیں۔ ابتدائی اوقات میں کچھ سیکٹرز میں خریداری کا رجحان بھی دیکھا گیا لیکن دن کے اختتام تک فروخت کے دباؤ نے مارکیٹ کو منفی زون میں دھکیل دیا۔ کاروباری حجم میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جو کہ مارکیٹ میں لیکویڈیٹی اور سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی کو ظاہر کرتی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی اور اقتصادی اشاریے مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے، اور کارپوریٹ سیکٹر کے نتائج بھی بازار حصص کی بحالی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ سرمایہ کار فی الحال ملکی معاشی صورتحال، شرح سود کے فیصلوں اور عالمی منڈی کے رجحانات کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ کسی بھی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔