Business
پی آئی اے بیڑے کی تجدید: برطانیہ سے ایئربس اور رولز رائس کے معاہدات پر غور
قومی ایئر لائن پی آئی اے کے بیڑے کی تجدید کے لیے پاکستان نے برطانیہ سے رابطہ کر لیا ہے جہاں ایئربس اور رولز رائس کے ساتھ طیاروں اور انجنوں کے انتظامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پی آئی اے کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور طویل مدتی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
اسلام آباد: قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری اور بحالی کے عمل کو تیز کرتے ہوئے حکومت نے اپنے بیڑے کی تجدید کے لیے برطانیہ کی جانب دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق، پاکستان ایوی ایشن حکام نے برطانیہ کے ساتھ ایئربس طیاروں اور رولز رائس کے انجنوں کے حصول کے لیے اہم انتظامات پرغور شروع کر دیا ہے، جس سے قومی ایئر لائن کے معیار کو بین الاقوامی سطح پر لانے میں مدد ملے گی۔
اس سلسلے میں حال ہی میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ نارسم اٹلانٹک (Norse Atlantic) نے پی آئی اے کے ساتھ لیز کا ایک معاہدہ طے کیا ہے، جس کے تحت بوئنگ 787 طیارے پی آئی اے کے بیڑے میں شامل کیے جائیں گے۔ اس سے قبل انڈیگو کے ساتھ شراکت داری ختم ہونے کے بعد پی آئی اے کے لیے نئے شراکت داروں کی تلاش جاری تھی اور اب برطانوی مارکیٹ اور ایوی ایشن کمپنیوں کے ساتھ یہ روابط ایک اہم پیش رفت کی حیثیت رکھتے ہیں۔
برطانیہ کی جانب سے اس عمل میں گہری دلچسپی ظاہر کی جا رہی ہے اور اسے طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ انتظامات حتمی شکل اختیار کر جاتے ہیں تو اس سے نہ صرف پی آئی اے کے روٹس اور مسافروں کی سہولیات میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی سطح پر اس کی کھوئی ہوئی ساکھ بھی بحال ہو سکے گی۔ حکومت پاکستان ملک کے ایوی ایشن سیکٹر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔