LIVE
Loading Breaking News...

عبداللہ طاہر قتل کیس، پولیس نے مرکزی شوٹر کا سراغ لگا لیا

News Image
پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عبداللہ طاہر کے قتل کیس میں اہم پیشرفت کرتے ہوئے مبینہ مرکزی شوٹر کی شناخت کر لی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
پاکستان تحریک انصاف کے مقامی رہنما عبداللہ طاہر کے ہائی پروفائل قتل کے کیس میں تحقیقاتی اداروں نے ایک اہم اور بڑی پیشرفت کی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران جدید سائنسی شواہد، ڈیجیٹل فٹ پرنٹس اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے اس واقعہ میں ملوث مبینہ مرکزی شوٹر کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس اندوہناک قتل کے پس پردہ محرکات جاننے کے لیے مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری رکھی گئی ہیں تاکہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث تمام سہولت کاروں اور ماسٹر مائنڈز کو بھی بے نقاب کیا جا سکے۔ ابتدائی تفتیشی رپورٹس کے مطابق پولیس کے پاس اب مبینہ مرکزی شوٹر کے حوالے سے قابلِ ذکر شواہد موجود ہیں، جن کی بنیاد پر اس کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں خصوصی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا عزم ہے کہ قانون کی گرفت سے کوئی مجرم بچ نہیں پائے گا اور مقتول کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔ پولیس کے اعلیٰ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ تفتیش کے اس مرحلے پر مزید تفصیلات کو صصیغہ راز میں رکھا گیا ہے تاکہ ملزم کو ہوشیار ہونے کا موقع نہ ملے اور کارروائی کو کامیابی کے ساتھ انجام تک پہنچایا جا سکے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی مقامی قیادت اور کارکنان کی طرف سے اس افسوسناک واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے پولیس اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ عبداللہ طاہر کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور اس کیس کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔ سیاسی حلقوں اور عوامی حلقوں کی طرف سے بھی اس قتل کی شدید مذمت کی گئی ہے اور قانون کی عملداری کا پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ امید ہے جلد ہی مبینہ مرکزی شوٹر کو قانون کے شکنجے میں جکڑ لیا جائے گا اور اس اندوہناک کیس کا مکمل پردہ چاک کر دیا جائے گا۔