World
امریکا کی آئی سی سی پر پابندیاں، عالمی سطح پر شدید ردعمل
امریکا کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا گیا ہے جنہیں عدالت نے قانون کی حکمرانی پر حملہ قرار دیا ہے۔ برطانیہ سمیت بین الاقوامی ٹریبونل کے کئی رکن ممالک نے بھی ان پابندیوں سے شدید اختلاف کا اظہار کیا ہے۔
واشنگٹن: امریکا نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے خلاف متنازع پابندیوں کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس پر عالمی سطح پر ایک نیا سفارتی بحران پیدا ہو گیا۔ اس قدم کو عالمی عدالتی نظام کے خلاف ایک بڑا وار قرار دیا جا رہا ہے اور دنیا بھر سے اس پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ عالمی فوجداری عدالت نے امریکی اقدام کو قانون کی حکمرانی پر براہ راست حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے عالمی انصاف کے عمل کو روکا نہیں جا سکتا۔ دوسری جانب، بین الاقوامی ٹریبونل کے کئی اہم رکن ممالک نے بھی امریکی فیصلے سے واضح اختلاف کیا ہے۔ برطانیہ سمیت متعدد اتحادی ممالک کا کہنا ہے کہ وہ امریکی پابندیوں سے سختی سے اختلاف کرتے ہیں کیونکہ اس سے عالمی اداروں کی خودمختاری متاثر ہوتی ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق اس فیصلے کے بعد امریکا اور عالمی عدالت کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس پیشرفت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔