LIVE
Loading Breaking News...

جے ڈی وینس اور فائرنگ اسکواڈ پھانسی کا تنازعہ

News Image
امریکہ کے نومنتخب نائب صدر جے ڈی وینس نے نیدل حسن کی فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے مجوزہ پھانسی پر شک کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اس سزائے موت کے عمل کو نہیں دیکھیں گے۔
امریکہ میں فوجی قانون کے تحت دی جانے والی سزائے موت کا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا ہے۔ نیدل حسن نامی ملزم کی فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے متوقع پھانسی نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مباحثوں کو جنم دیا ہے۔ اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکہ کے نومنتخب نائب صدر جے ڈی وینس نے اس سزائے موت کے طریقہ کار پر اپنے شدید تحفظات اور شکوک کا اظہار کیا ہے، جو اس وقت سیاسی اور فوجی حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر یہ فیصلہ نافذ ہوتا ہے تو یہ امریکہ کی تاریخ میں ساٹھ سال سے زائد عرصے میں ہونے والی پہلی فوجی پھانسی ہوگی۔ اس تاریخی نوعیت کے اقدام کے باوجود جے ڈی وینس نے کھل کر کہا ہے کہ وہ اس سزائے موت کے عمل کو دیکھنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ ان کے اس بیان نے اس حساس معاملے پر مزید بحث کو ہوا دی ہے، جہاں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور فوجی حکام اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ نیدل حسن کا یہ مقدمہ طویل عرصے سے امریکی عدالتوں اور فوجی نظام کے زیرِ غور رہا ہے، جس میں سزائے موت کے روایتی طریقوں کے بجائے فائرنگ اسکواڈ کے استعمال کی بات کی گئی ہے۔ اس طویل المدتی عدالتی عمل اور اب فائرنگ اسکواڈ کے نفاذ جیسے اقدامات نے قانونی ماہرین کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ ناقدین اور حامی دونوں ہی اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا یہ قدم امریکی فوجی عدالتی تاریخ میں کوئی نیا موڑ ثابت ہوگا یا نہیں۔ فی الحال، وینس کی جانب سے اس سزائے موت کے عمل کو نہ دیکھنے کا اعلان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس انتہائی نوعیت کے فیصلے پر اعلیٰ سیاسی سطح پر بھی کس قدر پس و پیش پائی جاتی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس متوقع پھانسی کے حوالے سے مزید قانونی اور سیاسی پیش رفت متوقع ہے، جس پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔