World
قبل از وقت رہائی پانے والا قیدی چند دن میں دوبارہ گرفتار
مائیکل بوگل کو قبل از وقت رہائی کی اسکیم کے تحت جیل سے رہا کیا گیا تھا لیکن وہ چند دن بعد ہی دوبارہ گرفتار ہو گئے۔ انہوں نے رہائی کے وقت بیان دیا تھا کہ ان جیسے لوگوں کو طویل عرصے تک جیل میں نہیں رہنا چاہیے۔
برطانیہ میں قبل از وقت رہائی کی ایک متنازع اسکیم کے تحت جیل سے باہر آنے والا ایک قیدی صرف چند دنوں کے اندر اندر دوبارہ سلاخوں کے پیچھے پہنچ گیا ہے۔ اس واقعے نے نظامِ انصاف اور قیدیوں کی قبل از وقت رہائی کے قوانین پر ایک بار پھر شدید بحث چھڑ دی ہے، جہاں ناقدین اس طرح کے فیصلوں پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مائیکل بوگل نامی اس شخص کو گزشتہ ہفتے ہی ایک خصوصی اسکیم کے تحت جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ رہائی کے بعد جیل کے دروازے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مائیکل بوگل کا کہنا تھا کہ ان جیسے لوگوں کو زیادہ طویل عرصے تک جیلوں میں بند نہیں رکھا جانا چاہیے، کیونکہ اس سے ان کی اصلاح میں کوئی خاص مدد نہیں ملتی۔ ان کا یہ بیان اس وقت کافی زیر بحث رہا تھا اور عوامی سطح پر اس پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا تھا۔
تاہم، یہ آزادی زیادہ طویل ثابت نہ ہو سکی اور رہائی کے محض چند ہی دنوں بعد موصوف کو ایک بار پھر قانون کی خلاف ورزی یا متعلقہ جرائم کی پاداش میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ قبل از وقت رہائی کے قوانین کا مقصد جیلوں میں بڑھتی ہوئی بھیڑ کو کم کرنا ہے، لیکن اس طرح کے واقعات اس پالیسی کے نفاذ اور اس کے ممکنہ خطرات پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔
ماہرین قانون کا ماننا ہے کہ اگر ایسے افراد کی کونسلنگ اور مانیٹرنگ کے نظام کو مزید سخت نہ کیا گیا تو اس قسم کے واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ فی الحال مائیکل بوگل کی دوبارہ گرفتاری کے بعد عدالتی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور متعلقہ ادارے اس پورے معاملے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ یہ جانا جا सके کہ اسکیم کے تحت کن خامیوں کی وجہ سے یہ صورتحال پیش آئی۔