LIVE
Loading Breaking News...

امریکی امیگریشن حکام کا آئی سی ای ایجنٹس کی فائرنگ پر مؤقف

News Image
امریکی امیگریشن حکام نے ان آئی سی ایجنٹس کے اقدام کا دفاع کیا ہے جنہوں نے ایک شخص کو اس وقت گولی مار دی جب وہ اسی کار میں موجود تھا جس میں ایک بچہ بھی سوار تھا۔ فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والا اٹھائیس سالہ اسکار بیلگل اب نیویارک کے باہر حراستی مرکز میں قید ہے۔
امریکی امیگریشن حکام نے حال ہی میں اس متنازع واقعے پر سخت دفاعی مؤقف اپنایا ہے جس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ایجنٹس نے ایک کار میں سوار شخص پر فائرنگ کی تھی۔ اس گاڑی کی پچھلی نشست پر ایک کمسن بچہ بھی موجود تھا جس کی موجودگی کے باوجود کارروائی کی گئی اور اس واقعے نے ملک بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایجنٹس نے زمینی حقائق اور خطرات کے پیش نظر ضابطے کے مطابق کارروائی کی۔ فائرنگ کے اس واقعے میں نشانہ بننے والے اٹھائیس سالہ نوجوان اسکار بیلگل خوش قسمتی سے اس حملے میں محفوظ رہے اور ان کی جان بچ گئی۔ حکام کی طرف سے فراہم کردہ تازہ ترین تفصیلات کے مطابق، اسکار بیلگل اب زخمی حالت سے باہر آنے کے بعد نیویارک کے مضافات میں قائم ایک حراستی مرکز میں قید ہیں، جہاں ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں تارکین وطن کے حقوق کی تنظیمیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طور طریقوں پر پہلے ہی کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان اس قسم کی کارروائیوں میں بچوں کی موجودگی کو انتہائی خطرناک قرار دے رہے ہیں اور غیر مصدقہ طاقت کے استعمال پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ دوسری جانب، سرکاری ذرائع کا اصرار ہے کہ ایجنٹس کی سلامتی اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے اس نوعیت کے سخت اقدامات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ اس معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس پر مزید قانونی اور سیاسی ردعمل سامنے آئے گا۔