LIVE
Loading Breaking News...

فورٹ ہڈ کے شوٹر کی پھانسی کی لائیو سٹریمنگ کا معاملہ

News Image
امریکی فوجی قوانین کے تحت سزائے موت کی ریکارڈنگ اور فلم بندی کے حوالے سے سخت اور مختلف ضوابط موجود ہیں۔ اس اہم معاملے پر قانونی اور تکنیکی مباحثے کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو گیا ہے۔
امریکہ میں سزائے موت کے نفاذ اور اس کی عوامی سطح پر تروتازہ یا ریکارڈ شدہ نشریات کے حوالے سے ہمیشہ سے پیچیدہ قوانین موجود رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک بار پھر یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کیا فورٹ ہڈ کے شوٹر کی سزائے موت کو لائیو سٹریم کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اس حوالے سے ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ قوانین ریاستی، وفاقی اور فوجی دائرہ اختیار کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہوتے ہیں۔ فوجی قوانین اور وفاقی ضابطے عام طور پر سزائے موت کی فلم بندی یا ریکارڈنگ پر سخت پابندیاں عائد کرتے ہیں تاکہ اخلاقی اور سکیورٹی خدشات کو دور رکھا جا سکے۔ دوسری طرف، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور کچھ قانونی ادارے شفافیت کے نام پر اس طرح کے اقدامات کے حق یا مخالفت میں اپنی آراء کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ عدالتی تاریخ میں ایسے معاملات شاذ و نادر ہی دیکھے گئے ہیں جہاں کسی بڑی پھانسی کو عوامی سطح پر میڈیا کے ذریعے براہ راست دکھایا گیا ہو۔ فوجی نظامِ عدل کے تحت ہونے والی کارروائیاں اپنے مخصوص ضابطہ کار کی پابند ہوتی ہیں، جن میں ملٹری جیلوں کے اندر ہونے والی سزائے موت کی تکمیل کے ضوابط بھی انتہائی کڑے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق، اس قسم کے کسی بھی اقدام کے لیے عدالتوں سے خصوصی اجازت درکار ہوگی اور موجودہ قوانین اس کی اجازت نہیں دیتے۔ یہ بحث ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ میں میڈیا کی رسائی اور عدالتی کارروائیوں کی شفافیت پر مسلسل بحث جاری ہے، لیکن پھانسی جیسے انتہائی قدم کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرنے یا لائیو دکھانے کے امکانات فی الحال قانونی رکاوٹوں کی وجہ سے انتہائی کم ہیں۔