LIVE
Loading Breaking News...

نیکون نے اے آئی سے بنی انعام یافتہ تصویر کا اعتراف کر لیا

News Image
مشہور کیمرہ ساز ادارے نیکون نے تصدیق کی ہے کہ ان کے فوٹوگرافی مقابلے میں تنازعے کا شکار ہونے والی انعام یافتہ تصویر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے بنائی گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد ادارے نے اپنے فوٹوگرافی مقابلوں کے قوانین اور طریقہ کار پر نظرثانی کا عمل شروع کر دیا ہے۔
عالمی شہرت یافتہ کیمرہ ساز ادارے نیکون نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ ان کے معروف 'اسمال ورلڈ ان موشن' مقابلے میں نامزد اور تنازعے کا شکار ہونے والی انعام یافتہ تصویر دراصل کسی حقیقی کیمرے سے نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تخلیق کی گئی تھی۔ اس انکشاف کے بعد فوٹوگرافی کی دنیا میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ ڈیجیٹل دور میں انسانوں کی تخلیق اور مشین کے فن میں تمیز کیسے کی جائے۔ ادارے نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اب اپنے مقابلوں کے ضوابط، جانچ پڑتال کے مراحل اور طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔ نیکون کا کہنا ہے کہ آئندہ ایسے مقابلوں میں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ صرف حقیقی اور روایتی فوٹوگرافی کو ہی ترجیح دی جائے اور شرکاء کے لیے اے آئی کے استعمال پر واضح پابندیاں عائد کی جائیں تاکہ شفافیت برقرار رہے۔ یہ تنازعہ اس وقت سامنے آیا جب اس تصویر کو ماہرین اور شائقین کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جن کا مؤقف تھا کہ اس تصویر میں حقیقی فوٹوگرافی کے وہ نقوش غائب ہیں جو اس کی خوبصورتی کو بڑھاتے ہیں۔ تکنیکی ماہرین کے مطابق، اے آئی سے تیار کردہ تصاویر نے روایتی فنکاروں اور فوٹوگرافروں کے حقوق اور محنت پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، جس پر اب بڑے ادارے بھی سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔