LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں نضال حسن کی سزائے موت کی لائیو سٹریمنگ کے منصوبے پر ہنگامہ

News Image
امریکی قانون سازوں نے فورٹ ہڈ کے شوٹر نضال حسن کی سزائے موت کو لائیو نشر کرنے کے پینٹاگون کے منصوبے کو وحشیانہ قرار دیا ہے۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے اراکین نے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔
واشنگٹن: امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں جماعتوں کے قانون سازوں نے پینٹاگون کے اس مبینہ منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس کے تحت فورٹ ہڈ کے فائرنگ کیس کے مجرم نضال حسن کی سزائے موت کو براہ راست (لائیو) نشر کیا جانا تھا۔ قانون سازوں نے اس اقدام کو انتہائی غیر منصفانہ اور وحشیانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے معاشرے میں تشدد کو مزید فروغ ملے گا اور یہ قانون کے تقاضوں کے بھی منافی ہے۔ یاد رہے کہ نضال حسن وہ شخص ہے جس نے سنہ 2009 میں فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کر کے متعدد افراد کو ہلاک اور زخمی کر دیا تھا، اور تب سے یہ مقدمہ امریکی عدالتی نظام میں انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ پینٹاگون کی طرف سے سزائے موت پر عمل درآمد اور اس کی براہ راست نشریات کے حوالے سے زیرِ غور لائحہ عمل پر اب سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث شروع ہو چکی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانون دانوں نے بھی اس نوعیت کی نشریات کے اخلاقی پہلوؤں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ریاست کی جانب سے کسی سزائے موت کو تماشہ بنا کر دکھانا کسی بھی تہذیب یافتہ معاشرے کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ قانون سازوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے مزید تکلیف کا باعث بنیں گے بلکہ ملک کے عدالتی اور عسکری نظام کی ساکھ کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ فی الحال اس معاملے پر مزید غور و خوض جاری ہے اور امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے ارکان پینٹاگون کے حکام سے اس پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ اس طرح کے حساس فیصلوں کو عوامی سطح پر تماشہ بننے سے روکا جا سکے۔