LIVE
Loading Breaking News...

غزہ جنگ بندی نام کی حد تک، 100 سے زائد این جی اوز کا بیان

News Image
ایک سو سے زائد انسانی حقوق اور فلاحی تنظیموں نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی محض کاغذی حد تک موجود ہے اور اسرائیلی بمباری و پابندیاں بدستور جاری ہیں۔ ان تنظیموں نے فلسطینی محصورین کی امداد کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بین الاقوامی فلاحی اور انسانی حقوق کی ایک سو سے زائد تنظیموں نے مشترکہ طور پر ایک انتہائی تشویشناک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کا دعویٰ صرف نام کی حد تک باقی رہ گیا ہے، جبکہ زمینی حقائق بدستور خونریز اور بدترین انسانی بحران کا پتہ دے رہے ہیں۔ تنظیموں کے مطابق، جنگ بندی کے اعلانات کے باوجود غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی کارروائیاں اور حملے وقفے وقفے سے جاری ہیں، جنم میں عام شہریوں کی جانیں جا رہی ہیں۔ بیان میں اس بات پر شدید زور دیا گیا ہے کہ محصور انکلیو میں انسانی امداد کی ترسیل پر عائد پابندیاں ختم نہیں کی جا سکیں۔ خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی شدید قلت کی وجہ سے غزہ کے مکینوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے اور طبی نظام پہلے ہی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ زمینی سطح پر اپنی ذمہ داریاں انتہائی خطرناک حالات میں انجام دے رہے ہیں لیکن اسرائیلی حکام کی طرف سے امدادی سامان کے داخلے میں جان بوجھ کر تاخیر اور رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جنگ بندی کو محض کاغذی کارروائی یا سیاسی بیان بازی تک محدود رکھنے کے بجائے اس پر مکمل اور غیر مشروط عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ معصوم شہریوں کا مزید جانی نقصان روکا جا سکے اور امدادی سامان بلا تعطل ضرورت مندوں تک پہنچ سکے۔