LIVE
Loading Breaking News...

بین الاقوامی فوجداری عدالت اور امریکی پابندیوں کا تنازع

News Image
بین الاقوامی فوجداری عدالت کی صدر توموكو اکانے نے عدالت پر عائد کی جانے والی امریکی پابندیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ان اقدامات کو خودمختار ریاستوں کے خلاف براہ راست ایک حملہ قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی صدر توموكو اکانے نے حال ہی میں عائد کی جانے والی امریکی پابندیوں پر انتہائی سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے یہ پابندیاں اس دعوے کے ساتھ عائد کی گئی تھیں کہ یہ اقدامات قومی خودمختاری کا دفاع کرنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔ تاہم، آئی سی سی کی قیادت نے اس موقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی انصاف کے اداروں کے خلاف ایک خطرناک مثال قرار دیا ہے۔ صدر توموكو اکانے کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دباؤ کے ہتھکنڈے عالمی سطح پر انصاف کی فراہمی کے عمل کو کمزور کرنے کی ایک شعوری کوشش ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بین الاقوامی عدالتیں کسی ایک ملک کے مفادات کے تحت کام نہیں کرتی بلکہ ان کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے مرتکب افراد کا احتساب کرنا ہے۔ اس تنازع نے واشنگٹن اور ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت کے درمیان تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ امریکہ روایتی طور پر آئی سی سی کا رکن نہیں رہا ہے اور وہ ماضی میں بھی اس عدالت کے دائرہ اختیار پر تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ حالیہ پابندیوں کے نفاذ سے بین الاقوامی قانون کے نفاذ اور خودمختاری کے تصورات پر ایک نیا عالمی بحث چھڑ گئی ہے۔ دنیا بھر کے انسانی حقوق کے اداروں اور قانونی ماہرین نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے عالمی سطح پر قانون کی حکمرانی کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔