LIVE
Loading Breaking News...

غزہ کے اسکولوں کی نگرانی کے لیے اے آئی کا استعمال

News Image
ایک امریکی فلاحی ادارے نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کے کلاس رومز میں نفرت انگیز تقاریر اور یہود دشمنی کی نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر استعمال کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد تعلیمی ماحول میں بہتری لانا اور متنازع بیانات کی روک تھام کرنا ہے۔
ایک امریکی فلاحی ادارے نے حال ہی میں ایک ایسے جدید منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت غزہ کے کلاس رومز میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی سافٹ ویئر کا استعمال کیا جائے گا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد تعلیمی اداروں کے اندر طلبا اور اساتذہ کے درمیان ہونے والی گفتگو کی نگرانی کرنا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی یہود دشمنی اور نفرت انگیز تقاریر کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔ یہ ٹیکنالوجی تعلیمی شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز سمجھی جا رہی ہے جہاں ڈیجیٹل آلات اور الگورتھمز کے ذریعے انسانی رویوں اور بیانات کا تجزیہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق یہ سافٹ ویئر کلاس روم کے ماحول کو بہتر بنانے اور متنازع موضوعات پر قابو پانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، تاہم تنازعات کا شکار خطے میں اس قسم کے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز کا نفاذ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور اہم قدم ہے۔ اس منصوبے کے تحت اے آئی سسٹمز اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا تدریسی عمل کے دوران کوئی ایسا مواد یا گفتگو تو استعمال نہیں ہو رہی جسے قوانین کے خلاف یا نفرت انگیز قرار دیا جائے۔ اس فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔ حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس سے تعلیمی اداروں میں امن اور رواداری کے فروغ میں مدد ملے گی، جبکہ ناقادز کا ماننا ہے کہ اس قسم کی نگرانی سے تعلیمی آزادی اور نجی زندگی کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ بہرحال، یہ منصوبہ ٹیکنالوجی اور انسانی حقوق کے درمیان توازن قائم کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ فلاحی ادارے کی جانب سے اس نظام کو جلد ہی نافذ کرنے کی تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں، اور آنے والے دنوں میں اس کے نتائج کا بھی بغور جائزہ لیا جائے گا۔ غزہ کے تعلیمی نظام کے لیے یہ قدم ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے جہاں بین الاقوامی اداروں کی معاونت سے ڈیجیٹل اصلاحات لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔