LIVE
Loading Breaking News...

رانا ثناء اللہ کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور دہشت گردی پر اہم بیان

News Image
مشیرِ وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ نے واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کا تعلق تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے نہیں بلکہ صوبے میں انسداد دہشت گردی کے لیے مؤثر تعاون سے ہے۔ دوسری جانب وفاقی سطح پر صوبے کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی اور گورننس کے معاملات پر اہم غور و خوض جاری ہے۔
اسلام آباد: وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا (کے پی) میں گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے زیرِ غور اختیارات کا تعلق کسی بھی طرح تحریک انصاف کے متوقع لانگ مارچ سے نہیں ہے، بلکہ اس کا بنیادی مقصد صوبے میں دہشت گردی کے خلاف موثر تعاون اور حکومتی امور کی بہتری کو یقینی بنانا ہے۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر جاری سیاسی کشمکش اور امن و امان کی خراب صورتحال کے تناظر میں یہ بیانات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ملک کے سیاسی منظر نامے میں اس وقت خیبر پختونخوا کی گورننس اور سکیورٹی کے امور پر شدید بحث جاری ہے۔ وزیراعظم ہاؤس میں بھی صوبے کی مجموعی صورتحال، ہنگامی اقدامات اور آئینی آپشنز پر غور کیا جا रहा ہے۔ وفاقی حکومت کا موقوف ہے کہ صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور انتظامی بحران پر قابو پانے کے لیے تمام آئینی اور قانونی راستے زیرِ غور لائے جا سکتے ہیں تاکہ صوبائی عوام کے جان و مال کا تحفظ کیا جا سکے۔ دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت اور صوبائی حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ صوبائی حکومت اور پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کا غیر آئینی یا غیر جمہوری اقدام صوبے کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہوگی۔ ادھر صوبائی سطح پر سیاسی رہنماؤں اور حکومتی حلقوں کی جانب سے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، جس سے ملکی سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ماہرینِ سیاسیات کا کہنا ہے کہ مرکز اور صوبے کے درمیان یہ کشیدگی نہ صرف ملکی معیشت بلکہ سکیورٹی کے محاذ پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ صوبے میں پائیدار امن اور ترقی کے لیے وفاق اور صوبہ خیبر پختونخوا کے درمیان سیاسی محاذ آرائی کو ختم کرکے باہمی افہم و تفہیم کی راہ اپنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام کو درپیش بنیادی مسائل کا فوری حل نکالا جا سکے۔