World
امریکہ کی بین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیاں، نوبل انعام کے بعد بڑا قدم
امریکہ نے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (ICC) پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں جنہیں عدالت نے قانون کی حکمرانی پر حملہ قرار دیا ہے۔ یہ قدم ایک سابق جج کو نوبل امن انعام ملنے کے چند گھنٹوں کے اندر اٹھایا گیا۔
امریکہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) پر اچانک نئی اور سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ ڈرامائی اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عدالت سے وابستہ ایک سابق جج کو نوبل امن انعام سے نوازا گیا تھا۔ اس ناگہانی امریکی قدم کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی حیرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور مبصرین کا ماننا ہے کہ اس سے عالمی سطح پر سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے امریکی پابندیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے عالمی قانون اور انصاف کے نظام پر ایک براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔ عدالت کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے عالمی سطح پر قانون کی حکمرانی کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔ دنیا بھر کے مختلف اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب عالمی میڈیا کے مطابق سابق جج ناوی پلائی کے لیے نوبل امن انعام کا اعلان ہونے کے چند ہی گھنٹوں بعد واشنگٹن کی جانب سے یہ پابندیاں عائد کی گئیں۔ امریکی انتظامیہ کے اس قدم کو عدالت کے دائرہ کار اور اس کے فیصلوں کے خلاف ایک بڑا دباؤ قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کا یہ اقدام عدالت کے کام کرنے کی صلاحیت کو محدود کرنے اور اسے مفلوج کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش معلوم ہوتا ہے جس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔