LIVE
Loading Breaking News...

آبِ ہرمز میں ایل پی جی ٹینکر پر حملہ اور ایرانی پاسداران انقلاب کا ردعمل

News Image
ایران کے پاسداران انقلاب نے آبِ ہرمز میں ایک ایل پی جی ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے جس کے بارے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ غیر قانونی روٹ استعمال کر رہا تھا۔ اس واقعے کے بعد خطے میں بحری جہازوں اور تیل کی نقل و حمل کے حوالے سے سکیورٹی خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
تہران: آبِ ہرمز کے حساس سمندری علاقے میں ایک ایل پی جی ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کا تازہ واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں بحری گزرگاہوں کی سکیورٹی پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے ایران کے پاسداران انقلاب (IRGC) نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ ٹینکر ایک غیر قانونی راستے پر گامزن تھا، جس کی وجہ سے یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی سمندری حدود اور بین الاقوامی قوانین کے تناظر میں آبِ ہرمز کی نقل و حمل کو سخت مانیٹرنگ کے تحت رکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس واقعے کے بعد خطے میں تیل بردار جہازوں اور تجارتی بحری ٹینکرز کے لیے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ پاسداران انقلاب اور عسکری ذرائع کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر آبِ ہرمز یا اس سے ملحقہ علاقوں میں تجارتی جہازوں کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی گئی تو مزید سخت اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے واقعات سے عالمی منڈی میں توانائی کی سپلائی لائنز بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں اور عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہو گا۔ دوسری جانب، ایران کے اعلیٰ عسکری حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی مسلح افواج ہر قسم کے حالات سے نمٹنے کے لیے پہلے سے زیادہ تیار اور مضبوط ہیں۔ ایران کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ خطے میں امن و امان اور دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے کے لیے وہ تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا حق رکھتے ہیں۔ اس حالیہ واقعے کے بعد عالمی سطح پر سفارتی کوششیں بھی تیز ہو چکی ہیں تاکہ آبِ ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ بڑے فوجی تنازعے کو روکا جا سکے۔